.

جرمنی نے ایران کی "ماہان ایئر" کا آپریشن پرمٹ واپس لے لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کی حکومت کے ایک سینئر عہدے دار نے پیر کے روز بتایا ہے کہ برلن نے ایرانی فضائی کمپنی "Mahan Air" کا جرمنی میں آپریشن پرمٹ منسوخ کر دیا ہے۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مذکورہ عہدے دار کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا تعلق سکیورٹی وجوہات سے ہے اور شبہ ہے کہ کمپنی کو عسکری مقاصد کے واسطے استعمال میں لایا جا رہا ہے۔

جرمن حکومت کو شبہ ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب عسکری مقاصد اور دہشت گرد کارروائیوں کے سلسلے میں ماہان ایئر کا استحصال کر رہی ہے جو 2011 سے امریکا کی جانب سے بلیک لسٹ اداروں میں شامل ہے۔

اس سے قبل جرمن اخبار "بیلڈ" نے دسمبر 2018 میں بتایا تھا کہ جرمنی نے "ماہان ایئر" کی پروازوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کا سبب کمپنی کا گزشتہ برسوں کے دوران پاسداران انقلاب کے ارکان اور ہتھیاروں کو شام منتقل کرنے کے آپریشن میں ملوث ہونا تھا تا کہ بشار الاسد کی حکومت کی سپورٹ کی جا سکے۔ اخبار کا کہنا تھا کہ جرمنی کی حکومت نئے سال کے آغاز سے ماہان ایئر کی جرمنی سے اور جرمنی کے لیے تمام پروازوں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔

امریکی وزارت خزانہ نے ماہان ایئر اور اس سے مربوط کمپنیوں پر اضافی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ امریکی وزارت کے مطابق مشرق وسطی میں دہشت گردی کی سپورٹ کے لیے ماہان ایئر ،،، پاسداران انقلاب کی تنظیم القدس فورس کی پسندیدہ فضائی کمپنی ہے۔

یاد رہے کہ ماہان ایئر کو اکتوبر 2011 میں پہلی مرتبہ پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مذکورہ کمپنی ایرانی پاسداران انقلاب کی فورسز کو لوجسٹک، مالی اور ٹکنالوجیکل سپورٹ فراہم کر رہی تھی۔ اس کے علاوہ ماہان ایئر فوجیوں، ہتھیاروں ، ساز و سامان اور مالی رقوم کو شام اور خطے کے دیگر ممالک منتقل کرنے میں بھی ملوث رہی۔