.

وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بنانے پر "نداء تیونس" پارٹی کے عہدے دار کو جیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں عدالت نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر "نداء تیونس" پارٹی کے قومی بیورو کے رکن ادیب الجبالی کو 8 ماہ کی جیل کی سزا سنا دی۔ مذکورہ رکن کے خلاف عدالت کا یہ فیصلہ بلاگز میں وزیراعظم یوسف الشاہد اور ان کی حکومت پر تنقید کرنے کے پس منظر میں جاری کیا گیا۔

الجبالی نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔ انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ برس ستمبر میں وزیراعظم یوسف الشاہد نے ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا جس پر الجبالی کو گرفتار کر لیا گیا۔ تین روز حراست میں رکھے جانے کے بعد ان پر "وزیراعظم کی اہانت اور ان کی حکومت کے بارے میں رائے عامہ کو ضرر پہنچانے" کے الزامات عائد کر دیے گئے۔ الجبالی نے سوشل میڈیا پر اپنے بلاگز میں وزیراعظم کی اقتصادی پالیسی اور النہضہ موومنٹ کے ساتھ ان کے اتحاد پر کڑی نکتہ چینی کی تھی۔

الجبالی کے مطابق انہیں تحقیقات کے سلسلے میں بدستور بلایا جا رہا ہے۔ علاوزہ ازیں ان کے گھر اور نقل و حرکت کی کڑی نگرانی ہو رہی ہے۔ الجبالی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم یوسف الشاہد انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھنے کے درپے ہیں مگر انہیں عدلیہ کی شفافیت اور انصاف پر مکمل اعتماد ہے۔

اس سلسلے میں متعلقہ عدالتی کارروائی کو آزادی رائے پر کاری ضرب شمار کیا جا رہا ہے۔ حالیہ عرصے میں کارکنان اور بلاگرز کے خلاف حراست میں لیے جانے کی کارروائیاں یہ ظاہر کر رہی ہیں کہ یہ معاملہ ایک منظم پالیسی کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ حکومت اپنے مخاصمین کے خاتمے اور ان پر گھیرا تنگ کر کے خاموش کرانے کے واسطے ان ہی حربوں کا سہارا لے رہی ہے۔ محض اس وجہ سے کہ ان لوگوں نے اپنی تحریروں میں حکومت کے سربراہ کو تنقید کا نشانہ بنایا، ان کی پالیسی کی مخالفت کی اور بدعنوانی سے متعلق امور پر بات کی۔

یاد رہے کہ سکیورٹی اداروں نے گزشتہ سال کئی بلاگرز اور سیاسی کارکنان کو حراست میں لیا تھا۔ ان لوگوں نے فیس بک پر اپنے مواقف کا اظہار کیا تھا۔ ان مواقف کو "ملک اور حکومت کے سربراہان کی توہین" یا "ریاست کے خلاف اشتعال انگیزی" سے تعبیر کیا گیا تھا۔ اس پیش رفت نے ملک کے اندر آزادی رائے کا حق سلب ہونے کے حوالے سے شدید اندیشوں کو جنم دیا۔