.

ایران کو دس لاکھ بیرل تیل کا ایک بھی خریدار نہیں ملا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تہران پر عائد امریکی پابندیوں سے بچنے کی ایران کی کوششوں کو ایک اور دھچکا لگا ہے۔ ایک سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بتایا ہے کہ ایران نے پیر کے روز ایکسچینج میں نجی کمپنیوں کو تیل فروخت کرنے کی کوشش کی تا کہ اسے برآمد کیا جا سکے ،،، تاہم اسے کوئی خریدار نہیں ملا۔

ایران میں تیل کی تجارت پر ریاست کا کنٹرول ہے مگر امریکی پابندیوں کو چکمہ دینے کے لیے حکومت نے گزشتہ برس سے خام تیل کو ایکسچینج کے ذریعے نجی کمپنیوں کو فروخت کرنا شروع کر دیا تھا۔

البتہ گزشتہ روز تہران کی جانب سے ایکسچینج میں 52 ڈالر فی بیرل کے نرخ پر دس لاکھ بیرل تیل فروخت کے لیے پیش کیا گیا تاہم کوئی خریدار آگے نہیں بڑھا۔

گزشتہ سال اکتوبر میں امریکی پابندیوں کے نافذ العمل ہونے سے پہلے ایران نے ایکسچینج میں پیش کیے جانے والے 2.8 لاکھ بیرل تیل کو 74 ڈالر فی بیرل کے حساب سے فروخت کیا تھا۔ اس کے دو ہفتوں بعد 7 لاکھ بیرل 64 ڈالر فی بیرل کے نرخ پر فروخت ہوا۔

واشنگٹن نے گزشتہ برس چار نومبر ایران کی تیل کی برآمدات پر پابندی عائد کر دی۔ اس سے قبل مئی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے بیچ جولائی 2015 میں طے پائے گئے جوہری معاہدے سے علاحدگی کا اعلان کر دیا تھا۔ اس جوہری معاہدے کے تحت ایران پر سے امریکی پابندیوں کو اٹھا لیا گیا تھا۔