.

چینی انٹیلی جنس نے ایوانکا ٹرمپ اور جارڈ کوشنر کا پینٹ ہاؤس خریدا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ٹرمپ کارپوریشن نے فروری 2017 میں نیویارک کے علاقے مین ہٹن میں ایک اپارٹمنٹ فروخت کیا تھا۔ خریدار کا نام سامنے آنے کے بعد اس سودے نے امریکا میں تنازع پیدا کر دیا تھا۔ اپارٹمنٹ کی خریدار ایک خاتون اینجلا چن تھی جس کے بارے میں دعوی کیا گیا کہ اس کے چینی انٹیلی جنس کے ساتھ تعلقات ہیں۔ بعد ازاں یہ بات سامنے آئی کہ اینجلا کی جانب سے خریدا گیا یہ اپارٹمنٹ محض ایک عام جگہ نہیں بلکہ یہ امریکی صدر کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ اور ان کے شوہر جارڈ کوشنر کی سابقہ قیام گاہ بھی تھا۔ پراپرٹی کے امور سے متعلق ریکارڈ رکھنے والی امریکی ویب سائٹ "فوربز" کے تجزیے کے مطابق ٹرمپ پارک ایونیو کی 28 ویں منزل پر واقع 1644 اسکوائر فٹ کا یہ اپارٹمنٹ کئی برس تک ایوانکا کے گھرانے کی رہائش گاہ رہا۔ بعد ازاں ٹرمپ کے انتخابات جیت جانے پر یہ چھوٹا سا گھرانہ واشنگٹن منتقل ہو گیا۔

اینجلا چن کو فروخت کی جانے والی پراپرٹی سے متعلق سمجھوتے نے حیرت کے پہاڑ توڑ دیے کیوں کہ یہ خاتون "گلوبل الائنس ایسوسی ایٹس" نامی کمپنی چلا رہی ہیں۔ یہ مشاورتی کمپنی تجارتی تعلقات کے شعبے میں کام کرتی ہے ،،، اور اپنی ویب سائٹ پر اس بات کا فخریہ اظہار کرتی ہے کہ وہ امریکی کمپنیوں کو چین میں اعلی قیادت کے ساتھ مربوط کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

امریکی جریدے "مَدر جونز" کی تحقیق کے مطابق اینجلا چن چائنا آرٹس فاؤنڈیشن کے امریکی ونگ کی سربراہ بھی ہیں۔ اس تنظیم کو کافی عرصے سے چینی فوج کی انٹیلی جنس سے ملحق اور بین الاقوامی پروپیگنڈے کا ڈویژن شمار کیا جاتا ہے۔

جیرڈ کوشنر کے چین کے ساتھ معاملات کو بھی چھان بین کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں کشنر کے خاندانی ریئل اسٹیٹ کے کاروبار کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل چینی فنڈنگ کے سلسلے میں ہونے والی بات چیت شامل ہے۔

امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" کے مطابق امریکی عہدے داران نے 2017 کے اوائل میں کوشنر کو خبردار کیا تھا کہ وہ چین کی جانب سے اثرا اندازی کی کارروائی میں ہدف بن سکتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ کوشنر کی وینڈی ڈینگ مردوخ کے ساتھ دوستی تھی جو ارب پتی روپرٹ مردوخ کی سابقہ بیوی ہے۔

امریکا میں Stanford’s Hoover Institution کے فیلو اور چینی تدابیر کا مطالعہ کرنے والے ماركوس كونالاکیس کا کہنا ہے کہ "صدر کی بیٹی کی سابقہ رہائش گاہ کو خریدنا اینجلا چن یا چینی حکومت کے لیے انتہائی ترغیب آمیز ہو گا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "چینیوں کو اس بات کا ادراک ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ صدر اپنی پالیسیوں کو معاملات پر استوار کرتا ہے۔ لہذا یہ منطقی امر ہے کہ ایک غیر ملکی ایجنسی اپنے مال کو کئی طریقوں سے لگائے۔ ان میں ایک پینٹ ہاؤس کی خریداری کے ذریعے صدر ٹرمپ تک پہنچنے کا حق حاصل کرنے کی کوشش بھی شامل ہے"۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کمپنی ٹرمپ ایونیو کارپوریشن نے مذکورہ پینٹ ہاؤس 21 فروری 2017 کو اینجلا چن کو فروخت کیا تھا۔ ٹرمپ کے کارپوریشن کے بڑے ذمے داران نے ٹرانسفر کے کاغذات پر دستخط کیے۔ اینجلا چن نے پینٹ ہاؤس خریدنے کے لیے 1.59 کروڑ ڈالر ادا کیے جو مارکیٹ ریٹ کے حوالے سے ایک بڑی رقم تھی۔ اس پینٹ ہاؤس سے ایک منزل نیچے واقع ان ہی خصوصیات کا حامل پینٹ ہاؤس مذکورہ رقم سے تقریبا 20 لاکھ ڈالر کم قیمت میں فروخت ہوا تھا۔

اس پینٹ ہاؤس کے خریدے جانے کے محض تین ہفتوں بعد اینجلا نے اسے 53 ہزار ڈالر کرائے پر دے دیا۔ اینجلا چن اسی عمارت میں پانچویں منزل پر بھی ایک چھوٹے اپارٹمنٹ کی مالک ہیں جو انہوں نے غالبا 2004 میں خریدا تھا۔

اینجلا چن اعلانیہ طور پر اس پینٹ ہاؤس کے خریدنے کی وجوہات کا ذکر نہیں کرتی ہیں۔ اسی طرح ایوانکا ٹرمپ اور جیرڈ کوشنر کے کسی نمائندے نے بھی اس ڈیل پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

فوربز نے پینٹ ہاؤس کی عمارت کی تصاویر اور پلان کا بغور جائزہ لینے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ ایوانکا اور جیرڈ ماضی میں اس پینٹ ہاؤس میں سکونت پذیر تھے۔ ایوانکا کے انسٹاگرام پر 2012 میں لی گی پینٹ ہاؤس کی تصاویر پوسٹ بھی کی گئی تھیں۔