.

گیارہ شامی شخصیات کا نام یورپی یونین کی پابندیوں والی فہرست میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین نے شام میں بشار الاسد حکومت پر اپنی پابندیوں کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے ایک نئی لسٹ جاری کی ہے۔ تازہ جاری ہونے والی بلیک لسٹ میں 11 شامی شہری، 5 ادارے اور کمپنیاں شامل ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ان تمام 11 شخصیات اور 5 اداروں کے بشار الاسد حکومت سے تعلقات ہیں اور انہیں خصوصی سہولیات پیش کی گئی ہیں۔ یہ افراد اپنے طور پر بشار حکومت کے مختلف اداروں کو مالیاتی اور غیر مالیاتی سپورٹ پیش کر رہے ہیں۔ یورپی یونین کے مطابق مذکورہ اداروں اور شخصیات نے اپنے سرمائے کو ان جگہوں پر لگایا ہے جو اسد حکومت نے شام کے تنازع کے سبب جبری ہجرت پر مجبور افراد سے ہتھیائی تھی ۔۔۔ اور اب یہ شامی شہری اپنے گھروں کو نہیں لوٹ سکیں گے۔

پابندیوں کی زد میں آنے والا پہلا نام انس طلس کا ہے جو تجارتی اور صنعتی (طلس گروپ) کے مینجمٹ بورڈ کا چیئرمین ہے۔ طلس شامی حکومت کو سپورٹ کرنے کے علاوہ اس سے بھرپور فائدہ بھی اٹھاتا ہے۔ یورپی یونین کے مطابق انس طلس نے دمشق الشام ہولڈنگ کمپنی کے ساتھ 23 ارب شامی لیرہ مالیت کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدے کے تحت (ميرزا) کے نام سے ایک کمپنی قائم کی جائے گی جو ملک میں ریئل اسٹیٹ کے ایک بڑے منصوبے میں سرمایہ کاری کرے گی۔ یاد رہے کہ مذکورہ کمپنی یورپی یونین کی جانب سے پابندیوں کے حالیہ فیصلے میں شامل اداروں میں سے ہے۔

پابندیوں میں نذیر احمد جمال الدین کا بھی نام ہے جو اعيان کمپنی فار پروجیکٹس اینڈ ایکوپمنٹس کا ڈائریکٹر جنرل ہے۔ یورپی یونین کے مطابق جمال الدین نے ریئل اسٹیٹ کے ایک منصوبے میں 3.4 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

یورپی یونین نے اپنی پابندیوں کی لپیٹ میں مازن الترزی کو بھی لیا ہے جو کئی کمپنیوں کا سربراہ ہے۔ اس نے دمشق میں ریئل اسٹیٹ کے ایک بڑے منصوبے میں 32 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے بشار حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ بھی کیا ہے۔

اسی طرح یورپی یونین کی پابندیوں میں بشار حکومت کی مقرب مشہور کاروباری شخصیت سامر فوز کا بھی نام ہے۔ سامر اپنے طور پر بشار حکومت کی بعض ملیشیاؤں کو مالی سپورٹ فراہم کرتا ہے۔ وہ ریئل اسٹیٹ کے بعض محدود منصوبوں میں بھی شریک ہے۔

علاوہ ازیں سامر فوز سے تعلق رکھنے والا خلدون الزعبی کا نام بھی یورپی یونین کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے۔ وہ بھی ریئل اسٹیٹ کے ایک متنازع منصوبے کا شراکت دار ہے۔

یورپی یونین کی پابندیوں میں شامی تاجر حسام القاطرجی کا بھی نام ہے۔ گذشتہ برس ستمبر میں امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے پابندیوں کی فہرست میں بھی اس کا نام شامل کیا گیا تھا کیوں کہ وہ داعش تنظیم کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھتا ہے اور اس نے مذکورہ دہشت گرد تنظیم کے ساتھ گندم کی منتقلی کے سمجھوتے کیے تھے۔ یورپی یونین نے اسے بشار حکومت کے ساتھ منافع بخش تعلقات اور شامی حکومت کو سپورٹ کرنے کے سبب نشانہ بنایا ہے۔

علاوہ ازیں یورپی یونین کی فہرست میں بشار محمد عاصی اور خالد الزبيدی کے نام بھی ہیں۔ ان افراد نے بشار حکومت کے ساتھ ریئل اسٹیٹ کے بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہوئی ہے اور وہ بشار حکومت کو تمام تجارتی کارروائیوں میں سپورٹ فراہم کرتے ہیں۔

اسی طرح دو اور شخصیات حيان محمد ناظم قدور اور معن رزق الله ہيكل بھی پابندیوں کی لپیٹ میں آئے ہیں۔ یہ 1.7 کروڑ ڈالر کے ریئل اسٹیٹ منصوبے میں شریک ہیں۔ علاوہ ازیں نادر قلعی کا نام بھی فہرست کی زینت ہے جو گرینڈ ٹاؤن کے ریئل اسٹیٹ منصوبے میں خالد الزبیدی کا شراکت دار ہے۔

یورپی یونین نے پانچ اداروں اور کمپنیوں کو بھی اپنی پابندیوں کی فہرست میں جگہ دی ہے۔ یہ تمام ریئل اسٹیٹ کے میدان میں مصروف عمل ہیں۔ ان کے نام ميرزا کمپنی، بُنيان کمپنی، امان کمپنی، المطورین ریئل اسٹیٹ کمپنی اور اور روافد دمشق کمپنی ہے۔