ایتھوپیا میں دہشت گردی میں ملوث 13 ہزار افراد کے لیے عام معافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

افریقی ملک ایتھوپیا میں ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت نے گذشتہ 6 ماہ کے دوران دہشت گردی اور خیانت کے الزام میں گرفتار 13 ہزار افراد کو عام معافی دی گئی ہے۔

ایتھوپیا کی سابقہ حکومت نے سنہ 2015ء کے دوران ملک میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں ے دوران اپوزیشن رہ نمائوں، طلبا، صحافیوں، سماجی کارکنوں دیگر شہریوں سمیت 30 ہزار افراد کو حراست میں لیا تھا۔

گذشتہ برس اپریل میں ایتھوپیا میں برسراقتدار آنے والے اصلاح پسند رہ نما ابی احمد نے نہ صرف پڑوسی ملک اریٹیریا کے ساتھ جاری طویل محاذ آرائی کے خاتمے کا اعلان کیا بلکہ دہشت گردی اور غداری کے الزام میں گرفتار ہزاروں افراد کی سزائیں معاف کیں۔

ایتھوپیا کے سرکاری ٹیلی ویژن 'فانا' نے بتایا کہ پراسیکیوٹر جنرل کی دفتر سے جاری ایک رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ مجموعی طورپر 13 ہزار 200 افراد کو عام معافی دی گئی ہے۔

حکومت نے بڑی تعداد میں سیاسی رہ نمائوں، ارکان پارلیمان علاحدگی پسند فریڈم فرنٹ اومورو اور نیشنل فرنٹ اور جینبوت7 کے ارکان پارلیمان کی آئینی حیثیت بحال کردی تھی۔ سابقہ حکومتیں ان جماعتوں کو دہشت گرد قراردے چکی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں