.

ایران : جیل میں بند انسانی حقوق کی معروف وکیل کے خاوند کو 6 سال قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے دارالحکومت تہران میں ایک انقلابی عدالت نے جیل میں بند انسانی حقوق کی معروف وکیل نسرین ستودہ کے خاوند کو سکیورٹی سے متعلق الزامات پر قصور وار قرار دے کر چھے سال قید کی سزا سنادی ہے ۔

ان کے وکیل محمد مقیمی نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’’عدالت نے بدھ کو رضا خندان کو قومی سلامتی کے خلاف سازش کے الزام میں قصور وار قرار دے کر پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے اور نظام کے خلاف پروپیگنڈا کرنے پر ایک سال قید کا حکم دیا ہے‘‘۔

انھوں نے بتایا ہے کہ ’’ عدالت نے ان کے مؤکل پر جیل سے رہائی کے بعد دو سال کے لیے ملک چھوڑنے پر پابندی عاید کردی ہے ، وہ سوشل میڈیا یا اخبارات میں کسی سرگرمی کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ سیاسی گروپوں کی رُکنیت بھی اختیار نہیں کرسکیں گے‘‘۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا کے مطابق تہران کی اسی عدالت نے انسانی حقوق کے ایک اور کارکن فرہاد میسامی کو ان ہی الزامات میں قصور وار دے کر چھے سال قید کی سزا سنائی ہے۔مقیمی ان دونوں کے وکیل صفائی تھے ۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔

واضح رہے کہ ایرانی حکام نے رضا خندان کو گذشتہ سال ستمبر میں ان کے گھر سے گرفتار کیا تھا اور انھیں گذشتہ ماہ ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔میسامی کو جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ابھی تک ضمانت پر رہائی کے منتظر تھے مگر اب انھیں جیل کی سزا سنا دی گئی ہے۔

رضا خندان کی اہلیہ نسرین ستودہ انسانی حقوق کی ایوارڈ یافتہ کارکن ہیں ۔ انھیں بھی گذشتہ سال جون میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔ان پر عدالت نے ان کی عدم موجودگی میں جاسوسی کےا لزام میں فردِ جرم عاید کی تھی اور انھیں چھے سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

55 سالہ ستودہ اپنی گرفتاری سے قبل عوامی مقامات پر سرپوش نہ اوڑھنے کی پاداش میں گرفتار کی گئی ایرانی عورتوں کے مقدمات کی پیروی کررہی تھیں اور وہ عوامی مقامات پر ضابطہ لباس کے خلاف احتجاج کے طور پر سرپوش اتا ر دینے والی خواتین اور انسانی حقوق کی کارکنان کے خلاف مقدمات میں عدالتوں میں بہ طور وکیل پیش ہوتی رہی ہیں۔

انھیں یورپی پارلیمان نے 2012ء میں ان کی انسانی حقوق کے لیے خدمات کے اعتراف میں سخاروف انسانی حقوق ایوارڈ سے نوازا تھا۔انھیں قبل ازیں 2010ء میں نظام کے خلاف پروپیگنڈے کی تشہیر اور ریاستی سکیورٹی کو نقصان پہنچانے کی سازش کے الزام میں قصور وار قرار دے کر چھے سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔انھوں نے ان تمام الزامات کی تردید کی تھی اور انھیں قید کی تین سالہ مدت پوری ہونے کے بعد 2013ء میں جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔

نسرین ستودہ نے اگست 2018ء میں انسانی حقوق کے معروف کارکنان کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کے طور پر جیل میں بھوک ہڑتال کردی تھی۔انھوں نے ایرانی سکیورٹی فورسز پر اپنے خاندان کے افراد کو ہراساں کرنے کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ خود انھیں بھی جیل میں ہراساں کیا جارہا ہے۔