.

ترکی نے داعش کے خلاف جنگ میں وعدے پورے نہیں کیے : ٹرمپ کے سابق ایلچی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش کے خلاف برسرجنگ بین الاقوامی اتحاد کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق ذاتی ایلچی بریٹ میک گورک کا کہنا ہے کہ ترکی بین الاقوامی اتحاد کی فورسز کے اس مطالبے کو پورا کرنے میں ناکام رہا کہ ترکی اور شام کی سرحد کے راستے اسمگل ہونے والی ہتھیاروں کی کھیپوں کو روکا جائے۔

میک گورک نے 22 دسمبر کو استعفا دے دیا تھا۔

میک گورک نے سی این این نیوز چینل پر کرسٹیان امان پور سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے امریکا کو ترکی کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صورت حال انتہائی مایوس کن تھی بالخصوص جب کہ ترکی نے سرحد پر مناسب اقدامات نہیں کیے۔

میک گورک کے مطابق ترکی شام میں جن اپوزیشن گروپوں کو سپورٹ کر رہا ہے ان گروپوں کے دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ تنظیم اس وقت ترکی کی سرحد پر تمام کراسنگز پر کنٹرول رکھتی ہے۔

سابق ایلچی نے بتایا کہ وہائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ میں قومی سلامتی کی ٹیم کے بعض سینئر ارکان کے نقطہ ہائے نظر میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ امریکا کے پاس آنے والے وقت کے لیے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

میک گورک کا کہنا ہے کہ "شام سے امریکی انخلا کا فیصلہ خطرات کو بڑھا دے گا اور اس سے شام میں روس کے سامنے امریکی موقف کمزور پڑ جائے گا۔ داعش تنظیم کی حتمی شکست کے وقت امریکا کو اس بات پر قادر ہونا چاہیے کہ وہ شام کے مستقبل کے حوالے سے روس کے ساتھ بات کر سکے۔ تاہم جب ہم دنیا کے سامنے شام سے امریکی فوج کے انخلا کا اعلان کر رہے ہیں تو امریکا کا موجودہ اثر و نفوذ بھاپ بن کر اڑ جاتا ہے"۔

میک گورک نے بتایا کہ انہوں نے اور سابق امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے دسمبر کے اوائل میں داعش کے خلاف برسر جنگ بین الاقوامی اتحاد کے تمام عسکری شراکت داروں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر تمام شرکاء کی متفقہ رائے یہ تھی کہ داعش تنظیم ابھی تک شکست سے دوچار نہیں ہوئی ہے۔