.

تیونس : بچی ّ کے معلم کے خلاف نسل پرستانہ فقرے کسنے پر ماں کو مقدمے کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے مشرقی شہر صفاقس میں ایک خاتون کو ا سکول کے معلم کے خلاف نسل پرستانہ فقرے کسنے پر مقدمہ کا سامنا ہے۔ یہ خاتون اپنی بچی کو جماعت سے باہر نکالنے پر معلم پر برس پڑی تھی اور اس کے خلاف نسل پرستی پر مبنی کلمات کہے تھے۔

پراسیکیوٹرز کے مطابق اس عورت کو اس کی بچی نے اسکول سے فون کیا تھا اور یہ اطلاع دی تھی کہ اس کو معلم نے جماعت سے نکال دیا ہے۔اس کے بعد یہ عورت اسکول گئی تھی اور اس نے معلم کا اس کی رنگت کی بنا مذاق اڑایا تھا اور اس کی صریح توہین کی تھی۔اس عورت کو اس واقعے کے تین روز بعد منگل کے روز حراست میں لے لیا گیا تھا۔

پراسیکیوٹر کے دفتر کے ترجمان مراد ترکی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اس عورت کے خلاف آیندہ ہفتے نسل پرستی اور ایک سرکاری ملازم کی توہین کے الزام میں مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوگا اور یہ تب تک زیر حراست ہی رہے گی۔ اس کے خلاف 2009ء میں منظور کردہ ایک قانون کے تحت مقدمہ چلایا جارہا ہے۔اس کے تحت کسی شخص کی نسلی بنیاد پر توہین کے مرتکب ملزم کو ایک سال تک قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔