.

سعودی حکومت خاشقجی واقعے کے بعد نظام کی خامیوں کو دور کرے گی : وزیر خزانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان نے کہا ہے کہ مملکت وسیع تر سماجی اور اقتصادی اصلاحات کے عمل سے گزر رہی ہے اور وہ قانون اور اقتصادیات سمیت تمام سطحوں پر اصلاحات کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے واقعے کے بعد نظام کی خامیوں کو بھی دور کیا جارہا ہے۔

وہ سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں سالانہ عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کے موقع پر سی این بی سی سے گفتگو کررہے تھے۔ان سے جب پوچھا گیا کہ سرمایہ کار وں کو اس بات کا اعتماد ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور جمال خاشقجی کے استنبول میں قتل کے واقعے کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے اور کیا وہ اس پر خوش ہیں؟

انھوں نے اس کے جواب میں کہا:’’ مجھے یقین ہیں ، ہم نے جو کچھ کہا ، سرمایہ کاروں کو اس پر اعتماد ہے۔جب ہم جنوری میں مارکیٹ میں داخل ہوئے تو سرمایہ کاروں نے ہم پر اعتماد کا اظہار کیا تھا اور ہمارے اس عزم پر بھی انھوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ ہم نے تمام سطحوں پر اصلاحات کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔سعودی عرب میں قانونی ، اقتصادی ، مالیاتی اور سماجی اصلاحات کی جارہی ہیں اور عوام بالخصوص دور رس نتائج کی حامل سماجی اصلاحات کو قبول کررہے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ جمال خاشقجی کے ساتھ جو کچھ ہوا ، وہ درحقیقت ایک بدقسمتی تھی اور یہ ایک افسوس ناک واقعہ تھا مگر سعودی حکومت یہ واضح کرچکی ہے کہ جو لوگ بھی اس واقعے میں ملوث پائے گئے انھیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

انھوں نے امریکی ٹی وی چینل کو بتایا کہ ’’ چند ہفتے قبل اس کیس کی کھلی عدالت میں پہل سماعت ہوئی تھی ۔اب ہم نے اس کیس کا فیصلہ عدالت پر چھوڑ دیا ہے لیکن حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بھی پُرعزم ہے کہ نظام میں موجود خامیوں کی نشان دہی کرکے انھیں دور کیا جائے گا اور اس سمت میں بہت زیادہ کام ہورہا ہے‘‘۔

قبل ازیں سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوٹر یہ بتا چکے ہیں کہ جمال خاشقجی کے قتل کے الزام میں ماخوذ کیے گئے گیارہ افراد کے خلاف کیس کی 3 جنوری کو الریاض کی فوجداری عدالت میں کھلی سماعت ہوئی تھی۔ضابطہ فوجداری کی دفعہ 4 کے تحت مدعا علیہان کے وکلاء بھی ان کی پیروی کے لیے عدالت میں موجود تھے۔

پبلک پراسیکیوٹر نے عدالت سے تمام ملزموں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے اور جمال خاشقجی کے قتل میں براہ راست ملوث پانچ مدعا علیہان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ان افراد نے ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے میں اپنے ہی ہم وطن اور واشنگٹن پوسٹ کے لکھاری جمال خاشقجی کو بہیمانہ انداز میں قتل کر دیا تھا۔ اس کے بعد ان کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے تھے ا ور پھر انھیں سوٹ کیسوں میں قونصل خانے کی عمارت سے باہر لے جا کر کہیں ٹھکانے لگا دیا تھا۔