.

شمالی کوریا پر پابندیوں پر عمل درامد میں جنوبی کوریا کی روش اختیاری ہے : رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی کوریا نے 2018 میں شمالی کوریا کو 300 ٹن سے زیادہ پٹرولیم مصنوعات بھیجیں تو وہ اقوام متحدہ کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی کو اس امر سے آگاہ کرنے میں ناکام رہا۔ اس بات کا انکشاف خبروں سے متعلق ویب سائٹ NK News نے بدھ کے روز اپنی ایک رپورٹ میں کیا۔ ویب سائٹ کے نزدیک جنوبی کوریا پیانگ یانگ پر عائد پابندیوں کے حوالے سے خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔

جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے دوران سلامتی کونسل کی جانب سے پیونگ یانگ پر عائد پابندیوں میں جزوی تخفیف کو سراہا تھا جب کہ امریکا کی جانب سے شمالی کوریا پر دباؤ کا سلسلہ جاری ہے تا کہ وہ اپنے جوہری اور میزائل پروگراموں سے دست بردار ہو جائے۔

این کے نیوز کے مطابق جنوبی کوریا سلامتی کونسل کی جانب سے شمالی کوریا پر عائد پابندیوں پر ،،، اختیاری اور اکثر و بیشتر غیر مستقل مزاج اسلوب میں عمل درامد کر رہا ہے۔

جنوبی کوریا کی وزارت اتحاد کے مطابق سیؤل نے 2018 میں شمالی کوریا کو 342.9 ٹن پٹرولیم مصنوعات ارسال کیں۔ تاہم این کے نیوز کے مطابق جنوبی کوریا نے ان کھیپوں کے بارے میں اقوام متحدہ کو کوئی نوٹیفیکیشن نہیں بھیجا۔

دوسری جانب جنوبی کوریا کی حکومت نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ شمالی کوریا پر عائد پابندیوں کے حوالے سے عمومی صورت میں کاربند ہے جب کہ اس دوران پیونگ یانگ کے ساتھ تعاون پر مبنی منصوبوں میں پیش رفت جاری رہے گی۔

وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہم نے دونوں کوریاؤں کے بیچ مشترکہ منصوبوں پر عمل درامد کے واسطے صرف پٹرولیم مصنوعات کو استعمال کیا۔ ہماری رائے میں اس سے شمالی کوریا پر عائد پابندیوں کے مقصد کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا ہے"۔

سلامتی کونسل کی 2017 میں جاری قرار داد نمبر 2397 کے مطابق رکن ممالک پر لازم ہے کہ وہ ہر 30 روز میں اقوام متحدہ کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی کو تیل کی اُن خالص مصنوعات کی مقدار کے بارے میں آگاہ کریں جو شمالی کوریا کو برآمد، فروخت یا منتقل کی گئی۔

اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ وہ سالانہ 5 لاکھ بیرل تک تیل کی خالص مصنوعات شمالی کوریا کے حوالے کر سکتے ہیں۔