.

قانونی چارہ جوئی کا خطرہ، امریکا سے فلسطینی امداد بند کرنے کی درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تنظیم آزادی فلسطین'پی ایل او' کے سیکرٹری صائب عریقات نے منگل کے روز بتایا کہ حکومت نے امریکی انتظامیہ کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں امریکا سے فلسطینی اتھارٹی کی سیکیورٹی شعبے سمیت تمام امداد بند کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

پی ایل او کی طرف سے یہ درخواست اس لیے دی گئی ہے تاکہ رواں ماہ کے آخر میں فلسطینی اتھارٹی کے خلاف امریکا میں عدالتی کارروائی کی کوشش ناکام بنائی جاسکے۔

صائب عریقات نے' اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ہاں میں امریکا کو لکھے گئے مکتوب کی تصدیق کرتا ہوں ۔یہ مکتوب صدر محمود عباس کی ہدایت پر امریکا کو لکھا گیا ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ امریکا ہے کہ امریکا میں ہمارے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی شروع کی جاسکتی ہے۔ امریکا کے انسداد دہشت گردی کے نئے قانون 'اٹکا' کے تحت فلسطینی اتھارٹی کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔

صائب عریقات کا کہنا ہے کہ امریکا نے حال ہی میں انسداد دہشت گردی کے لیے ایک نیا قانون منظور کیا ہے جسے جلد ہی نافذ کیا جائے گا۔ فلسطینی اتھارٹی کو دی جانے والی امداد امریکا میں بعض حلقوں کو فلسطینی اتھارٹی کے خلاف قانونی کارروائی کا موقع فراہم کرسکتی ہیں۔

'اے ایف پی' کو امریکا کو بھیجے گئے فلسطینی حکومت کے مکتوب کی ایک نقل موصول ہوئی ہے جس پر فلسطینی وزیراعظم رامی الحمد اللہ کے دستخط ثبت ہیں اور یہ مکتوب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو بھیجا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں صائب عریقات نے کہا کہ امریکا کی طرف سے فلسطینی امداد بند ہونے سے سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پرکوئی اثر نہیں پڑے گا۔

ادھرفلسطینی اتھارٹی کے ایک سینیر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر 'اے ایف پی' کو بتایا کہ امریکی امداد کی بندش سے فلسطینی سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے مگر دیگر ذرائع سے اس کمی کو پورا کرنے اور بیرون امدادسے اس کا حل نکالیں گے۔

ذرائع نےانکشاف کیا کہ فلسطینی اٹھارٹی کے ہاں متعین امریکی سیکیورٹر کنٹریکٹر پہلے سے فلسطین سے جا چکے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد فلسطینی اتھارٹی کی بیشتر امداد بندکردی گئی ہے۔