.

سوڈان میں مظاہرے جاری ، صدرعمرالبشیر کے لیے جنوبی سوڈان کی حمایت کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں صدر عمر حسن البشیر کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور ان سے استعفے کے مطالبات میں شدت آرہی ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر ان کے لیے حمایت کا بھی اظہار کیا جارہا ہے اور اب وہ ممالک بھی ان کی حمایت میں سامنے آگئے ہیں جو پہلے ان کے مخالف سمجھے جاتے تھے اور جنوبی سوڈان نے بھی ان کے لیے زبانی کلامی حمایت کا اظہار کردیا ہے۔

جنوبی سوڈان 2011ء میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ایک ریفرینڈم کے نتیجے میں سوڈان سے الگ ہوگیا تھا۔جنوبی سوڈانیوں کی متحدہ سوڈان میں شمال کی انتظامیہ سے کئی سال تک خانہ جنگی رہی تھی لیکن اب کہ علاحدگی کے سات سال کے بعد دونوں ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے کے قریب آ چکے ہیں اور مزید بھی آرہے ہیں۔اس کی بڑی وجہ تیل کی آمدن بھی ہے۔

جنوبی سوڈان کے وزیر تیل عیزکیل لل گٹکوتھ نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹر ز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جب آپ کے باہمی مفادات اس طرح آپس میں باہم پیوست ہوں تو پھر آپ جڑواں ( بھائیوں) کی طرح ہوتے ہیں۔ہمارے نزدیک مسئلے کا عمر البشیر کو ہٹانا نہیں بلکہ معیشت میں بہتری لانا ہے‘‘۔

گٹکوتھ اور ان کے سوڈانی ہم منصب نے سوموار کو سرحدی علاقے میں واقع یونٹی آئیل فیلڈ میں تیل کی پیداوار میں اضافے کے موقع پر منعقدہ تقریب میں مشترکہ طور پر گائے ذبح کی تھی۔اسی جگہ ایک عشرہ قبل سوڈانی فوج اور جنوبی سوڈان کے باغیوں کے درمیان ٹینکوں سے خونریز لڑائی ہوتی رہی تھی۔اس علاقے میں اب اس جنگ کے آثار عمارتوں کی تباہی اور دیواروں میں گولیوں کے نشانات کی صورت میں موجود ہیں۔

شمالی اور جنوبی سوڈان میں یہ باہمی قُربت ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب سوڈان میں حکومت مخالف تحریک دوسرے مہینے میں داخل ہوچکی ہے اور مظاہرین صدر بشیر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔جنوبی سوڈان کی حکومت کو یہ تشویش لاحق ہے کہ اگر صدر عمر البشیر کی حکومت گرتی ہے تو اس کے اثرات جنوبی سوڈان میں بھی امن وامان کی صورت پر مرتب ہوں گے۔

جنوبی سوڈان میں گذشتہ پانچ سال سے خانہ جنگی جاری تھی اور حال ہی میں حکومت اور باغی گروپوں کے درمیان ایک امن سمجھوتے کے تحت امن قائم ہوا ہے۔ یہ امن سمجھوتا سوڈان ہی کی مدد سے طے پایا ہے اور اسی نے اس کی ضمانت دی ہے۔

جنوبی اور شمالی سوڈان کی معیشتوں کا ایک دوسرے پر انحصار ہے۔ جنوبی سوڈان تیل کی دولت سے مالا مال ہے جبکہ اس کی کوئی بندرگاہ نہیں اور وہ خشکی میں گھرا ہوا ہے۔اس کا تیل سوڈان کی پائپ لائنوں کے ذریعے اس کی بندرگاہ تک منتقل کیا جاتا ہے اور وہاں سے پھر برآمد کیا جاتا ہے۔سوڈان کو تیل کی برآمد کے لیے انفرااسٹرکچر مہیا کرنے پر ہر بیرل تیل کے بدلے میں 9 سے 11 ڈالر وصول ہوتے ہیں۔

سوڈان میں احتجاجی مظاہروں میں شریک ’’اب تبدیلی تحریک‘‘ کے ترجمان امجد فرید التیاب نے کہا ہے کہ ’’ ہوسکتا ہے کہ صدر عمر البشیر ماضی میں ان ( جنوبی سوڈانیوں) کے دشمن رہے ہوں لیکن اب صورت حال تبدیل ہوچکی ہے اور وہ ان کے بہت قریب آ چکے ہیں۔میرا نہیں خیال کہ وہ ان کی اقتدار سے علاحدگی کی حمایت کریں گے‘‘۔

جنوبی سوڈان کے حکام کو یہ بھی شُبہ ہے کہ اگر خرطو م میں صدر بشیر کی حکومت تبدیل ہوتی ہے تو نئی حکومت ان کی کم دوست ہوسکتی ہے۔اس لیے وہ احتجاجی مظاہروں کی حوصلہ افزائی نہیں کررہے ہیں اور حکومت کے تحت میڈیا کونسل نے ایک خط میں مقامی صحافیوں کو خبردار کیا تھا کہ’’ مظاہرے ایک دوست ملک کا اندرونی معاملہ ہیں۔اس لیے جنوبی سوڈان میں میڈیا اشتعال انگیز بیانات اور تبصرے شائع اور نشر نہ کرے‘‘۔

جنوبی سوڈان کے صدر سلفا کیر نے صدر بشیر سے اظہار ِیک جہتی کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا وفد خرطو م بھیجا تھا۔ان کے ترجمان ایٹنی ویک ایٹنی نے ایک بیان میں کہا کہ ’’سوڈان اور جنوبی سوڈان کے درمیان تعلقات آزادی کے بعد سے بہت دوستانہ ہیں۔ہم صدر بشیر کے ساتھ شراکت داری جاری رکھنے کے منتظر ہیں‘‘۔