طیب ایردوآن کی وینزویلا کے صدر مادورو کو ترکی کی جانب سے حمایت کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو سے جمعرات کو فون پر گفتگو کی ہے اور انھیں ترکی کی جانب سے حمایت کی پیش کش کی ہے۔انھوں نے اس حمایت کا اظہار وینزویلا کی حزبِ اختلاف کے لیڈر کے خود کو ملک کا صدر قرار دینے کے ردعمل میں کیا ہے۔

ترکی کے صدارتی ترجمان ابراہیم کالین نے جمعرات کو ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ہمارے صدر نے وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو فون کیا ہے ،انھیں ترکی کی جانب سے حمایت کا یقین دلایا ہے اور انھیں کہا ہے کہ میرے بھائی مادورو! آپ کھڑے رہیں ،ہم آپ کے ساتھ ہیں‘‘۔

وینزویلا کی حزب اختلاف کے لیڈر جوآن گائیڈو نے بدھ کو از خود ہی ملک کا صدر ہونے کا اعلان کردیا تھا۔ امریکا سمیت لاطینی امریکا کے بعض ممالک نے ان کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔اس کے ردعمل میں صدر مادورو نے امریکا کے ساتھ اپنے ملک کے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے ہیں ۔

واضح رہے کہ سوشلسٹ رجحانات کے حامل مادورو 2013 سے تیل کی دولت سے مالا مال وینزویلا کے صدر چلے آرہے ہیں۔ وہ امریکا کے خلاف سخت موقف رکھتے ہیں اور ان کے پیش رو صدر ہوگو شاویز بھی امریکا کے سخت مخالف تھے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے چند روز قبل وینزویلا کے دارالحکومت کیراکس کا دورہ کیا تھا اور اس موقع پر وینزویلا پرامریکا کی عاید کردہ پابندیوں پر تنقید تھی اور کہا تھا کہ ’’سیاسی مسائل ایک پوری قوم کو سزا دے کر حل نہیں کیے جاسکتے ہیں۔ہم ان اقدامات کی حمایت نہیں کرسکتے جن میں عالمی تجارت کے اصولوں کو نظرانداز کیا گیا ہے‘‘۔

ان کا اشارہ امریکی پابندیوں کی جانب تھا ۔امریکا نے گذشتہ ماہ وینزویلا کے حکام اور اس کی سونے کی برآمدات پر بعض پابندیاں عاید کردی تھیں۔اس نے وینزویلا کے حکام پر بدعنوانیوں میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا تھا،مادورو حکومت کے ساتھ مالی لین دین پر پابندی عاید کردی تھی اور اس پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عاید کیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ماہ ایک انتظامی حکم پر دست خط کیے تھے جس کے تحت امریکا سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص پر وینزویلا سے سونے کی ’’دھوکا دہی‘‘ اور بدعنوانی کے ذریعے فروخت میں ملوث افراد اور اداروں کے ساتھ لین دین پر پابندی عاید کردی تھی۔

وینزویلا کو گذشتہ پانچ سال سے معاشی بحران کا سامنا ہے اور ملک میں خوراک اور ادویہ کی قلت ہوچکی ہے۔ صدر مادورو امریکا کی مسلط کردہ ’’معاشی جنگ‘‘ کو اپنے ملک کے مسائل کا ذمے دار قرار دیتے ہیں لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے پیش رو صدر ہوگو شاویز کی متعارف کردہ سوشلسٹ پالیسیوں کے نتیجے میں ملک معاشی بحران سے دوچار ہوا ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ پالیسیاں ناکام رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں