وینز ویلا کی مسلح افواج نے موجودہ بحران میں حکومت کی حمایت کردی

اپوزیشن لیڈر کا خود کو عبوری صدر قرار دینے کا فیصلہ مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وینز ویلا میں سامنے آنے والے تازہ سیاسی بحران میں مسلح افواج نے صدر نیکولس ماڈورو کا ساتھ دینے اور اپوزیشن لیڈر کو صدر تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وینز ویلا کے وزیر دفاع اور آرمی چیف جنرل ولادی میر پاڈرینو نے پارلیمنٹ کے اسپیکر خوان گوایڈو کو خود کو ملک کا 'عبوری صدر' قرار دینے کے اعلان کو مسترد کردیا۔

وینز ویلا کے آرمی چیف نے 'ٹوئٹر' پر پوسٹ کی گئی متعدد ٹویٹس میں کہا کہ 'تعصب اور مایوسی قوم کو تباہ کررہے ہیں۔ ہم اس وطن کے سپاہی ہیں۔ کسی شخص کو پراسرار مقاصد کے لیے وینز ویلا کا صدر قرار دینے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی اور نہ ہی کسی شخص کا خود کو غیرآئینی طورپر صدر قرار دینے سے وہ قانونی حیثیت حاصل کرسکتا ہے۔ فوج دستور کا تحفظ یقینی بنائے گی۔

وینز ویلامیں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے کے مطابق گذشتہ بدھ سے جاری حکومت مخالف مظاہروں میں اب تک 13افراد ہلاک ہوچکےہیں۔

وینز ویلا آبزر ویٹری کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں صدر نکولس ماڈورو اور اپوزیشن لیڈر کے حامیوں کے درمیان تصادم میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئےہیں۔ زیادہ تر ہلاکتیں فائرنگ کے نتیجے میں ہوئیں۔

ادھر وینز ویلاکے صدر نکلولس ماڈورو نے امریکا کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑدیے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینز ویلا کے اپوزیشن لیڈر کو صدر تسلیم کرنےکے اعلان کے بعد یہ اقدام کیاگیا ہے۔

بدھ کو امریکی صدر نے وینز ویلا کے اپوزیشن لیڈر اور پارلیمنٹ کے اسپیکر خوان گوایڈو کو ملک کا عبوری صدر تسلیم کرلیا تھا۔ گوایڈو کو جنوبی امریکا کے بعض دوسرے ممالک بھی وینز ویلا کا صدر تسلیم کرچکے ہیں۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں