چینیوں کی 'آم' کے ساتھ محبت کی عجیب وغریب داستان!

چینی آم کو مقدس سمجھتے اور اس کی توہین پرسزائے موت دی جاتی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

'آم' کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے مگر چینیوں اور مائوزے تنگ سے وابستہ آم کی کہانی بالکل عجیب ہے۔ چینیوں نے پہلی بار پاکستان سے آیا آم دیکھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے آم چینیوں کے لیے مقدس چیز کا درجہ اختیار کرگیا۔ اس کی پوجا کی جاتی۔ اس کا ایک آم کا دانہ دیکھنے لاکھوں لوگ امڈ آتے۔ اس کی بے حرمتی پر سزائے موت دی جاتی اور اس کا دھوون پینے کو باعث برکت خیال کیا جاتا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ایک رپورٹ میں چینیوں اور آم کی باہمی دلچسپ داستان کی تفصیلات بیان کی ہیں۔

سنہ 1966ء میں چینی بابائے اعظم مائوزے تنگ نے ثقافتی انقلاب کاآغاز کیا۔ انہوں‌ نے سرمایہ دارانہ اور بورژوا طبقے کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور مائو ازم کی ترویج کی ملک گیر تحریک شروع کرکے ملک میں ایک نئے کیمونسٹ نظام کی بنیاد رکھی۔

مائوزے تنگ کی تحریک نے پورے چین میں بے چینی اور افراتفری پیدا کیا۔ معیشت تباہ ہوگئی اور لاکھوں لوگ جنگ کی بھینٹ چڑ گئے۔

سنہ 1960ء کے عشرے میں چین طویل ثقافتی اور سیاسی انقلاب سے گذرا۔ اس دورکے لاکھوں واقعات میں ایک واقعہ ایسا ہے جس نے نہ صرف پورے چین بلکہ اطراف کے ممالک کے لوگوں کو بھی حیران کیا۔ وہ واقعہ چینیوں کا 'آم' کے پھل کے ساتھ تعلق تھا۔ آم چین میں اگایا جاتا مگر پہلی بار چینیوں‌نے شاید مائوزے تنگ کے دور میں آم دیکھے۔

چار اگست 1968ء کو اس وقت کے پاکستانی وزیر خارجہ شریف الدین پیرزادہ نے چین کا سرکاری دورہ کیا۔ اپنے اس دورے کے دوران وہ مائوزے تنگ کے لیے آموں کی ایک ٹوکری بھی ساتھ لے گئے جس میں آم کے 40 دانے تھے۔

مائوزے تنگ نے پاکستانی وزیر خارجہ کے اس تحفے کو اپنے حامیوں کی مزید حمایت کے حصول کے لیے استعمال کیا اور آم نے چینی مزدوروں میں ایک نیا جذبہ پیدا کردیا۔ اگلے روز یعنی پانچ اگست سنہ 1968ء کو چین ی شینگھوا یونیورسٹی میں اپنے وفادار مزدوروں کو چند آم بھیجے۔

وہاں سے چینیوں میں 'آم' کے پھل کی شہرت کا آغاز ہوا۔ کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں میں دوسرے ملک سے آنے والے اس پردیسی پھل کو مقدس درجہ دیا۔ وہ آم سے محبت کو مائوزے تنگ سے محبت کی علامت قرار دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ آم کی وجہ سے چین میں کئی ایسے ناقابل یقین اور حیران کن واقعات سامنے آنے لگے۔

بیجنگ میں کپڑے کی ایک فیکٹری میں 'آم' کے استقبال کے لیے باقاعدہ جشن کی تقریب برپا کی۔ انہوں‌نے آم کا ایک دانہ کارخانے کے داخلی راستے پر شیشے کے ایک برتن میں بند کرکے رکھا۔ وہاں کام کرنےوالے تمام ملازمین کو علی الصباح کام شروع کرنے سے قبل آم کا دیدار کرایا جاتا۔ چینی اسے سلام پیش کرتے اور اس کے بعد اپنے اپنے کاموں پر جاتے۔

کئی کارخانوں میں آم کا صرف ایک ایک دانہ ہوتا۔ اسے کسی بڑے برتن میں ابلے پانی میں ڈالا جاتا اور اس پانی کے قطرے وہاں پر کام کرنے والے مزدوروں کو پلائے جاتے۔

اس دوروان ایک کارخانے نے شنگھائی میں قائم اپنی ذیلی برانچ کو وہ ایک آم بھیجا۔ آم کا ایک دانہ بیجنگ سے شنگھائی لے جانے لیے خصوصی طیارے کا اہتمام کیا گیا تھا۔

چند ماہ کے اندر اندر چین میں لوگوں کو جیسے آم فوبیا ہوگیا۔ کارخانوں میں آم کے پلاسٹک، شیشے اور دوسری اشیاء کے نمونے تیار کیے جانے لگے۔ ڈاک کے لفافوں پر آم کی تصاویر اور سیگریٹ کی ڈبیوں سمیت کئی دوسری چیزوں پر ہرطرف آم ہی آم دیکھے جاتے۔

شنگڈو شہر کا شمار چین کے گنجان آباد علاقوں میں ہوتا ہے۔ کہا جاتاہےجب وہ ایک آم لایا گیا تو اسے دیکھنے کے لیے نصف ملین لوگ ایک میدان میں جمع ہوگئے تھے۔

چین کی ایک دیہاتی عورت نے آم کو آلو سے تشبیہ دی تو سزا کے طورپر اس کا سرقلم کردیاگیا۔ آم کے بارے میں کوئی غیرمہذہب لفظ کا استعمال ریاست کوگالی دینے اور بغاوت کے مترادف سمجھا جاتا۔

سنہ 1968ء میں چین کے قومی دن کے موقع پر بیشتر پروپیگنڈہ پوسٹروں پر آم کی تصاویر تھیں۔ یوں اس وقت آم سے محبت چین کے پورے معاشرے کی رگ وپے میں سرایت کرچکی تھی۔ یہ سلسلہ قریبا دو سال تک چلتا رہا تاہم آہستہ آہستہ لوگوں میں آم کی پہلے جیسی قدرو منزلت نہ رہی اور آنے والے برسوں میں آم ایک بار پھر چین میں اجنبی ہو گیا۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں