'ثقافتی مراکز' یورپی ممالک میں ایرانی مداخلت کے اڈے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

گذشتہ تین دھائیوں سےایرانی رجیم پوری دنیا بالخصوص مشرق وسطیٰ اور یورپی ممالک میں اپنے اثرو نفوذ کے لیےسرگرم ہے اور اپنے ان مذموم عزائم کی تکمیل کے لیےطرح طرح کے دیگر حربوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ بھاری رقوم صرف کررہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق ایران ثقافتی مراکز کی آڑ میں یورپی ممالک میں اپنے اثرو نفوذ میں اضافے کے لیے کوشاں ہے۔ یورپی ممالک میں اسلامی مراکز، مساجد اور دیگر ادارے بنا کر ایران کے سیاسی، مذہبی اور ولایت فقیہ کے نظریات کی ترویج کی جا رہی ہے۔ ان تمام مراکزکو ایران کے بنیاد پرست عناصر اور اداروں کا مالی اور عملی تعاون حاصل ہے اور ایران اپنے بنیاد پرستانہ نظریات بیرون ملک پھیلانے کے لیے مذہب اور ثقافت کو بھرپور طریقے سے استعمال کررہا ہے۔

'امریکی ایرانی فورم' کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں‌کہا گیا ہے کہ یورپی ملکوں میں قائم نام نہاد ایرانی ثقافتی مراکز پاسداران انقلاب کی سمندر پار یونٹ'فیلق القدس' کے اڈے ہیں جن کی آڑ میں پاسداران انقلاب بیرون ملک اپنے مذموم مقاصد کو آگے بڑھا رہا ہے۔ ان مراکز کی آڑ میں دہشت گردی کی اشاعت اور بیرون ملک ایرانی عسکری کارروائیوں کی ترویج کی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 20 اپریل 2018ء کو جرمن صدر نے جرمنی میں موجود شیعہ مذہبی سوسائٹی کے ایک وفد سے ملاقات کی۔یہ تنظیم جرمنی میں کئی مساجد اور اسلامی وثقافتی مراکز کی سرپرستی کرتی ہے۔

ھمبرگ میں قائم مرکزاسلامی کے چیئرمین رضا رمضانی ایک ایرانی مذہبی لیڈر ہیں اور وہ اس وقت ایران میں خبر گان کونسل کے بھی رکن ہیں۔

ایرانی حکومت کے ایک مقرب اخبار"بیلد" کے مطابق رمضانی جرمنی میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کے مندوب ہیں۔

جرمنی میں قائم ایرانی اسلامی سوسائٹی نامی آرگنائزیشن کے ایرانی حکومت کی اعلیٰ ترین شخصیات کے ساتھ براہ راست تعلقات قائم ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کس طرح جرمنی کی سرزمین مین اپنے اثرو رسوخ کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ رپورٹ کے مطابق جرمنی میں ایرانی ثقافتی سرگرمیوں کی آڑ میں اثرو نفوز پیدا کرنے کی کوشش یورپ کے قلب میں انتہا پسندی پھیلانے کے مترادف ہے۔ انہی میں ھمبرگ شہر میں ایران کا ایک مذہبی مدرسہ موجود ہے جسے حوزۃ العلمیہ کہا جاتا ہے۔

یورپ کی سرزمین پر کئی اور ایسے ایرانی مذہبی ادارے قائم ہیں جو ایرانی بنیاد پرستانہ نظام کی ترویج میں سرگرم ہیں۔ ان میں 'ثقافتی تنظیم برائے اسلامی تعلقات عامہ' (ICRO)' بھی شامل ہے جو ایران کی المصطفیٰ بین الاقوامی یونیورسٹی کے زیرانتظام سرگرم ہے۔ اس کا مرکز ایران کے مذہبی شہر قم میں ہے جو بیرون ملک شیعہ افکار کی ترویج کے لیے مبلغ تیار کرتی اور پوری دنیا میں ولایت فقیہ کے نظام کے پھیلائو میں سرگرم ہے۔

امریکی۔ ایرانی فورم کی رپورٹ میں یورپی ملکوں بالخصوص برطانیہ اور جرمنی میں ایرانی تنظیموں کی تفصیلات پر روشنی ڈالی ہے۔ ان میں (ICRO) کا خاص طورپر تذکرہ ہے۔ یہ تنظیم 1995ء ایرانی وزارت ثقافت و مذہبی امور کی زیرنگرانی میں قائم کی گئی تھی۔

'بین الاقوامی اہل بیت آرگنائزیشن' دنیا میں اہل تشیع کے افکار کی اشاعت وتبلیغ میں سرگرم ہے۔

بین الاقوامی فورم برائے اسلامی مذاہب غیر شیعہ مسالک کے ساتھ رابطوں‌کے لیے سرگرم تنظیم ہے۔
'اسلامک ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن'IDO' بھی دوسرے ممالک میں ایران کا ایک مذہبی پروپیگنڈہ فورم ہے۔

'اسلامی پروپیگنڈہ مرکز' نامی ادارہ بھی بیرون ملک شیعہ افکار کی ترویج کے لیے مذہبی رہ نمائوں کی تیاری میں سرگرم ہے۔

ایرانی وزارت ثقافت کا شعبہ دعوت و ارشاد بھی بیرون ملک ایرانی سفارت خانوں کے ذریعے اپنی مذہبی اور انتہا پسندانہ تعلیمات کی ترویج میں سرگرم ہے۔

دیگر اداروں کے ساتھ ساتھ 'بین المذاہب مکالمہ مرکز'CID بھی ایرانی مذہبی اور سیاسی فکرو فلسفے کی ترویج واشاعت کے لیے بیرون ملک سرگرم ایرانی پرپیگنڈہ مراکز میں شامل ہے۔

ایرانی افکار ونظریات کو پوری دنیا تک پھیلانے اور پہنچانے کےلیے ایران کی المصطفیٰ بین الاقوامی یونیورسٹی کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ یہ درسگاہ ایران میں ایسے افراد تیار کرتی ہے جو تعلیم سے فراغت کے بعد پوری دنیا میں پھیل جاتے ہیں اور ایرانی ولایت فقیہ کا پرچارک کرتے ہیں۔ ایران کے قم شہر میں قائم اس یونیورسٹی کا قیام 2007ء میں عمل میں لایا گیا تھا۔ پوری دنیا میں اس کی 100 سے زاید شاخیں موجود ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای یونیورسٹی کے سرپرست اعلیٰ ہیں۔

ایران کی اس پروپیگنڈہ درس گاہ میں 40 ہزار طلباء زیرتعلیم ہیں جب کہ طالبات کی تعداد 10 ہزار کے قریب بیان کی جاتی ہے۔

سنہ 2007ء کے بعد سے اب تک 45 ہزار افرادفارغ التحصیل ہوچکے ہیں اور انہیں یونیورسٹی ہی کی جانب سے دنیا کے مختلف ملکوں‌میں ایرانی مبلغ بنا کر بھیجا گیا۔

یورپی ممالک میں انگلینڈ بھی ایرانی اثرو نفوذ کا ہدف ہے۔ انگلینڈ میں ایرانی اثرو نفوذ کے اداروں میں درج ذیل ادارے اہمیت کے حامل ہیں۔

'لندن اسلامک انسٹیٹیوٹ' ۔ بطانیہ میں قائم ایرانی نفوذ کے اداروں میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ادارہ 1998ء میں قائم کیا گیا اور سنہ 2008ء سے اس کی سرپرستی المصطفیٰ یونیورسٹی کررہی ہے۔

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں قائم اس ایرانی شیعہ مذہبی اسکول میں 90 طلباء زیرتعلیم ہیں۔

انگلیںڈ اسلامک سینٹر۔ اس مرکز کا قیام سنہ 2008ء میں عمل میں آیا۔ برطانیہ میں ایران کے اداروں میں یہ سب سے زیادہ سرگرم ہے۔ اس کی سرپرستی ایک ایرانی مذہبی رہ نما محمد علی شمالی کررہے ہیں جو انگلینڈ میں مرشد اعلیٰ کے نمائندے سمجھے جاتےہیں۔

اس کے علاوہ کئی اور مراکز ہیں جن میں مانچسٹر سینٹر، نیوکاسل اسلامک سینٹر، برمنگھم اسلامک سینٹر اور گلاسکو مرکز شامل ہیں۔

ایران یورپی ممالک میں اپنے مذہبی اور سیاسی اثرو نفوذ کے فروغ کے لیے بھاری رقوم صرف کررہا ہے۔ ایران کی جامعہ المصطفیٰ یورپی ملکوں‌میں اہل تشیع کے پھیلائو کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ گذشتہ برس 21 مارچ کو یونیورسٹی کی بیرون ملک سرگرمیوں کے لیے 50 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے مساوی سالانہ بجٹ مقرر کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں