.

وینزویلا میں تازہ سیاسی بحران کے بعد ماڈورو کا شامی نژاد نائب کون؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وینزویلا میں 23 جنوری کو پارلیمنٹ کے اسپیکر اور حزب اختلاف کے رہ نما وان گواڈو نے خود کو ملک کا عبوری صدر قرار دیتے ہوئے صدر نیکولس ماڈورو کو تسلیم کرنے سے انکار کریا۔ اس کے فوری بعد امریکا اور ارجنٹائن سمیت متعدد دوسرے ممالک نے وان گواڈو کو وینزویلا کا عبوری صدر تسلیم کرلیا۔وینز ویلا میں جاری سیاسی بحران کو عالمی ذرائع ابلاغ میں غیرمعمولی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ اس بحران کے دوران وینزویلا میں ایک نئی شخصیت بھی ابھر کرسامنے آئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وینز ویلا کے صدر نیکولس ماڈورو نے طارق العیسمی نامی سیاستدان کو نائب صدرمقرر کیا ہے۔ مگرطارق العیسمی ایک متنازع شخصیت ہیں۔ پین عرب جریدے'الشرق الاوسط' کے مطابق العیسمی ایک'جرائم پیشہ' تنظیم کمان کرتے رہے ہیں۔

طارق العیسمی کو سنہ 2017ء کے دوران وینزویلا میں نائب صدر کے عہدے پرتعینات کیا گیا۔ اس سے قبل سنہ 2008ء اور 2012ء کے دوران وزیر داخلہ اور وزیرانصاف وقانون کے عہدوں پربھی تعینات رہ چکے ہیں۔ سنہ 2012ءکے بعد انہیں ریاست اراگو کا گورنر مقرر کیا گیا تھا۔

سنہ 2017ء کو امریکا نے طارق العیسمی پر پابندیان عاید کیں۔ امریکا کا دعویٰ ہے کہ العیسمی بین الاقوامی منشیات مافیا کا سرگرم رکن ہے اور وہ امریکا اور دوسرے ملکوں کو منشیات کی اسمگلنگ میں معاونت کرتا ہے۔

دوسری جانب وینزویلا کی اپوزیشن قیادت کا کہنا ہے کہ طارق العیسمی سام دشمن ہے اور اس کے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ ، فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت 'حماس' اور ایران کےساتھ بھی گہرے مراسم ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق وینزویلا میں اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی کے باوجود طارق العیسمی کو زیادہ اختیارات نہیں دیے گئے۔ تاہم خاتون ماہر قانون کے مطابق طارق العیسمی کو سیکیورٹی کے شعبے میں وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ وینز ویلا کے نائب صدر طارق العیسمی کے عرب ذرائع ابلاغ میں کافی چرچے ہیں۔ انہیں بولیفاریہ انقلاب کے وارث بھی کہا جاتا ہے۔

طارق العیسمی کا آبائی وطن شام ہے اور وہ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ وہ 1974ء کو وینز ویلا میں پیدا ہوئے مگر ان والد زیدان العیسمی شام کے سویداء شہر سے ھجرت کرکے وینز ویلا میں آگئے تھے جہاں انہوں نے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ طارق نے طالب علمی دور میں ایک طلبہ تنظیم کی قیادت کی۔ اس کے بعد وہ ملک کے سرکردہ رہ نمائوں میں شمار ہونے لگے۔ سنہ 2005ء میں انہیں وینز ویلا کی اشتراکی سیاسی جماعت کا نائب صدر مقرر کیا گیا تھا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق طارق العیسمی کے والد زیدان العیسمی عرب سوشلسٹ بعث پارٹی کے سرگرم رہ نما تھے۔ سنہ 1992ء میں ہوگو شاویز نے ملک میں انقلاب برپا کیا تو زیدان ان کے دست وبازو رہے۔ طارق عیسمی کے بھائی آدان شاویز کےساتھ گہرے مراسم رہے ہیں۔ آدان 2007ء میں وزیرتعلیم کے عہدے پر فائز ہوئے۔

اگست 2018ء کو طارق العیسمی نے ترکی کا دورہ کیا اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے ملاقات کی تھی۔ اکتوبر 2018ء کو طارق العیسمی نے اپنے ملک میں امریکی ڈالر کی اجارہ داری ختم کرتے ہوئے چینی یوان اور یورو میں لین دین کا فیصلہ کیا۔