امریکا اور طالبان کے درمیان بات چیت ختم ،مجوزہ امن معاہدے کے مسودے پر پیش رفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات اہم پیش رفت کے ساتھ ختم ہوگئے ہیں اور انھوں نے افغانستان میں گذشتہ سترہ سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مجوزہ امن معاہدے میں شامل کی جانے والی شقوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔

طالبان کے ایک ذریعے نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے تحت دونوں طرف سے رعایتیں دی جائیں گی۔اس کے تحت غیرملکی فوجوں کا جنگ زدہ ملک سے اٹھارہ ماہ میں انخلا ہوجائے گا۔

ذرائع اور سفارت کاروں کے مطابق امریکا کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد دوحہ میں طالبان کے ساتھ چھے روزہ مذاکرات کے اختتام پر کابل روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ افغان صدر اشرف غنی کو مذاکرات کے حاصلات سے آگاہ کریں گے۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ دوحہ بات چیت کے حوالے سے کوئی مشترکہ بیان جاری کیا جائے گا اور یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ آیا امریکا نے مجوزہ سمجھوتے کی تمام شرائط مکمل طور پر قبل کر لی ہیں۔کابل میں امریکی سفارت خانے نے ابھی تک دوحہ میں بات چیت کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

طالبان ذرائع کے مطابق انھوں نے امریکا کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو القاعدہ اور داعش کے انتہا پسندوں کے امریکا اور اس کے اتحادیوں پر حملوں کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔امریکا کا طالبان سے مذاکرات میں اس سے پہلے سب سے اہم مطالبہ یہی تھا کہ جنگ زدہ ملک کو مغربی مفادات پر حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

طالبان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں جنگ بندی کے لیے نظام الاوقات کو حتمی شکل دیں گے اور جب جنگ بندی پر عمل درآمد ہوجائے گا تو پھر وہ افغان نمایندوں سے مذاکرات کا آغاز کریں گے۔

مجوزہ معاہدے کی دوسری شقیں متحارب فریقوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور ان کی رہائی اور امریکا کی جانب سے طالبان کے بعض لیڈروں پر عاید بین الاقوامی سفری پابندیوں کے خاتمے سے متعلق ہیں ۔اس کے علاوہ بعض شقیں جنگ بندی کا معاہدہ طے پانے اور اس پر عمل درآمد کے بعد افغانستان میں عبوری حکومت کی تشکیل کے بارے میں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں