.

بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران پر نئی پابندیاں عاید ہوں گی: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات ناکام ہوئے تو اس کے خلاف فرانس مزید پابندیا ں عاید کرنے کے لیے تیار ہے۔

ژاں وائی ویس لو دریان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ اگر مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتے تو ہم ایران کے خلاف سخت پابندیاں عاید کرنے کے لیے تیار ہیں اور وہ ( ایرانی) اس کو اچھے طریقے سے جانتے ہیں‘‘۔

قبل ازیں بعض مغربی سفارت کاروں نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ فرانس ، برطانیہ اور یورپی یونین کے دوسرے رکن ممالک ایران کے خلاف نئی اقتصادی پابندیاں عاید کرنے پر غور کررہے ہیں۔

تین سفارت کاروں نے بتایا ہے کہ ان پابندیوں کے تحت ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے عہدے داروں اور بیلسٹک میزائل پروگرام سے وابستہ شخصیات کے اثاثے منجمد کیے جا سکتے ہیں اور ان پر سفری پابندیاں عاید کی جاسکتی ہیں۔

امریکا نے گذشتہ سال نومبرمیں ایران کے خلاف دوبارہ اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔ان کے تحت اس کے تیل ، بنک کاری اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو ہدف بنایا گیا تھا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو اس کی ’’ غیر قانونی ‘‘ پالیسیوں سے باز رکھنے کے لیے مزید پابندیاں عاید کرنے کی بھی دھمکی دے رکھی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے ایرا ن کے خلاف یہ پابندیاں جولائی 2015ء میں جوہری سمجھوتا طے ہونے کے بعد ختم کردی تھیں لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ سال مئی میں اس سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا۔