تیونس کا عرب لیگ میں شام کی رُکنیت بحال کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شام ایک عرب ریاست ہے اور اس کی ’’فطری جگہ‘‘ عرب لیگ کے اندر ہے۔ یہ بات تیونسی وزیر خارجہ خميّس الجھيناوی نے تیونس میں اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف کے ساتھ ہفتے کے روز مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ عرب لیگ میں شام کی واپسی کے سوال کا انحصار تیونس پر نہیں بلکہ خود عرب لیگ پر ہے۔ تنظیم کے وزرائے خارجہ اس موضوع پر فیصلہ کریں گے کہ شام کے استحکام اور سلامتی میں ان کا کیا مفاد وابستہ ہے؟‘‘

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے اس موقع پر شام کی عرب لیگ میں واپسی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔انٹر فیکس نیوز ایجنسی کے مطابق سرگئی لاروف نے کہا کہ ’’ ہم نے الجزائر اور مراکش میں گذشتہ چند روز کے دوران میں ا س موضوع پر تبادلہ خیال کیا ہے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ تیونس شام کی عرب خاندان یعنی عرب لیگ میں واپسی کی حمایت کرے ‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ تیونس اور روس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون بڑھانے سے اتفاق کیا ہے۔سرگئی لاروف تیونسی صدر اور وزیراعظم سے بھی آج ملاقات کرنے والے تھے۔وہ شمالی افریقا کے ملکوں کے دورے پر ہیں۔

واضح رہے کہ عرب لیگ نے سات سال قبل صدر بشارالاسد کی حکومت کے مظاہرین کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کے بعد شام کی رکنیت معطل کردی تھی۔اب بعض عرب ریاستیں شام کے ساتھ مصالحت کے حق میں ہیں اور وہ اس کی عرب لیگ میں رکنیت کی بحالی چاہتی ہیں۔ ان میں ایک ایسا عرب ملک بھی شامل ہے جو ماضی میں شامی باغیوں کی حمایت کرتا رہا ہے۔

گذشتہ ماہ متحدہ عرب امارات نے دمشق میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا تھا اور سوڈانی صدر عمر حسن البشیر نے شام کا دورہ کیا تھا۔ وہ 2011ء کے اوائل میں صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک شروع ہونے کے بعد شام کا دورہ کرنے والے پہلے عرب سربراہ ریاست ہیں لیکن قطر نے اسی ماہ کے اوائل بشارالاسد کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی تجویز مسترد کردی تھی۔

شام کی رکنیت کی بحالی کے لیے عرب لیگ کے تمام رکن ممالک کے درمیان اتفاق رائے ضروری ہے۔ مصری وزیر خارجہ سامح الشکری نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ شام کو تنظیم میں واپسی کے لیے بعض اقدامات کرنا ہوں گے اور اقوام متحدہ کے زیر اہتمام امن مذاکرات میں سیاسی پیش رفت کرنا ہوگیان کا کہنا تھا کہ جب یہ سب کچھ ہوجائے گا تو ہم پھر اس معاملے پر بات چیت کریں گے لیکن فی الوقت ایسا کچھ بھی نہیں ہورہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں