کیا لیبیا کی حکومت 'داعش' کی مالی مدد کرتی رہی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک طرف پوری دنیا شدت پسند گروپ دولت اسلامیہ 'داعش' کے خلاف برسر پیکار ہے اور دوسری طرف لیبیا کی حکومت پر سنہ 2011ء میں سرت میں 'داعش' کی مالی مدد کیے جانے کا الزام سامنے آیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق داعش اور لیبیا کی حکومت کے درمیان باہمی تعاون کی خفیہ دستاویزات سامنے آئی ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ لیبی حکومت داعش کے جنگجوئوں‌ کی مالی مدد کرنے میں‌ ملوث رہی ہے۔

'شہداء سرت الخیریہ' نامی تنظیم کی طرف سے رواں ہفتے لیبیا کے ادارہ برائے انسداد بدعنوانی کو ایک مکتوب ارسال کیا گیا ہے جس میں کہا گہا ہے کہ سنہ 2011ء کی جنگ میں سرت میں متاثرہ گھروں کی بحالی کے لیے داعش کو مالی مدد فراہم کی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق حکومت کی طرف سے سرت میں ‌2016ء تک داعش کو معاوضوں کا سلسل جاری رہا ہے اور اس رقم سے داعش تنظیم کے تیسرے اہم ترین لیڈر امحمد امراجع بلقاسم الجوانی نے بھی فایدہ اٹھایا۔ مکتوب میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ سنہ 2011ء اور اس کے بعد سرت شہر میں داعش کو دی جانے والی رقوم کی تحقیقات کرائے۔

الجوانی نامی شدت پسند ان 1995 افراد کی فہرست میں شامل ہے جنہیں مکان کی تعمیرو مرمت کے لیے حکومت کی طرف سے مدد فراہم کی گئی۔ سنہ 2016ء کو سرت کو داعش سے آزاد کرانے کے بعد الجوانی کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ اسے بیرون ملک فرار کی کوشش کے دوران پکڑا گیا اور اس کے قبضے سے 40 لاکھ ڈالر کے قریب برآمد کی گئی تھی۔

دوران تفتیش داعشی کمانڈر الجوانی نے اعتراف کیا کہ ان کی تنظیم کو عبدالحکیم بلحاج کے توسط سے مالی مدد ملتی رہی ہے۔ اس نے کہا کہ ہم نے مصراتہ شہر میں بلحاج سے کئی بار ملاقاتیں کیں جس نے لیبیا میں داعش کے لیے 80 ملین لیبی دینار دیے تھے۔ اس رقم کی مدد سے اسلحہ خریدا گیا تاکہ لیبی فوج کو سرت میں‌ داخل ہونے سے روکا جاسکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں