.

سوڈانی صدر عمر البشیر کا دورۂ مصر ، عبدالفتاح السیسی سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈانی صدر عمر حسن البشیر اتوار کو مصر کے سرکاری دورے پر دارالحکومت قاہرہ پہنچ گئے ہیں۔ انھوں نے مصری صدر عبدالفتاح سے ملاقات کی ہے اور ان سے دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

مصری ایوان صدر کے ایک بیان کے مطابق عبدالفتاح السیسی اور عمر البشیر اپنی بات چیت کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کریں گے۔سوڈانی صدر کا اپنے ملک میں میں 19 دسمبر سے جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران میں یہ دوسرا غیر ملکی دورہ ہے۔

ان کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے والی سوڈانی پروفیشنل ایسوسی ایشن ( ایس پی اے) نے آج دارالحکومت خرطوم اور اس کے جڑواں شہر اُم درمان کے کئی علاقوں میں حکومت کے خلاف دھرنوں کی اپیل کررکھی ہے۔تاہم عینی شاہدین کے مطابق خرطوم اور اُم درمان میں بہت کم لوگ مظاہروں کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔

سوڈانی شہری گذشتہ ایک ماہ سے مہنگائی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔انھوں نے حکومت کی جانب سے روٹی کی قیمت میں اضافے کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔اس دوران میں انھوں نے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور اب وہ سوڈانی صدر سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن وہ ان کے مطالبے پر مستعفی ہونے کا انکار کرچکے ہیں۔

واضح رہے کہ مصر کے وزیر خارجہ سامح شکری نے دسمبر میں خرطوم کے دورے کے موقع پر سوڈانی حکومت کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا : ’’ مصر کو اعتماد ہے کہ سوڈان موجودہ صورت حال پر قابو پا لے گا‘‘۔ انھوں نے کہا تھا کہ مصر ہمیشہ سوڈان کی مدد کے لیے تیار رہا ہے۔

اب سوڈان میں صدر عمر حسن البشیر کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں ان سے استعفے کے مطالبات میں شدت آرہی ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر ان کے لیے حمایت کا بھی اظہار کیا جارہا ہے اور اب وہ ممالک بھی ان کی حمایت میں سامنے آگئے ہیں جو پہلے ان کے مخالف سمجھے جاتے تھے ۔اگلے روز جنوبی سوڈان نے ان کے لیے دوٹوک انداز میں حمایت کا اظہار کیا تھا۔