.

قطر کے سابق وزیراعظم پر برکلیز بنک سے کمیشن مانگنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کی ایک عدالت نے قطرکے سابق وزیراعظم حمد بن جاسم پر برکلیز بنک سے کمیشن مانگنے کا الزام عاید کیا ہے۔
اخبار 'فائننشیل ٹائمز' کے مطابق برکلیز کےریکارڈ سے ملنے والی معلومات سے پتا چلا ہےکہ سابق قطری زیراعظم حمد بن جاسم نے بنک سے کمیشن مانگا تھا۔

برکلیز بنک کے ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایا کہ سابق قطری وزیراعظم نے بنک میں قطری سرمایہ کاری کی ضمانت کے لیے بنک سے کمیشن مانگا تھا۔

گذشتہ بدھ کو عدالت میں‌پیش کی گئی دستاویزات میں کہا گیا تھا کہ برکلیز بنک کے ایک عہدیدار نے خفیہ طورپر قطرکو 20 کروڑ 22 لاکھ آسٹریلوی پائونڈز کاچیک دیا تھا۔ یہ رقم اس وقت دی گئی جب بنک مالیاتی بحران سے دوچار تھا اس بحران سے نکلنے کے لیے قطری سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے ایساکرنا تھا۔

عدالت میں دائر کردہ درخواست میں برکلیز بنک کے چار سابقہ عہدیداروں کے خلاف خطرناک دھوکہ دہی کے الزامات عایدے کیے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ برکلیز بنک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے 11 ارب 80 کروڑ آسٹریلوی پائونڈز کا ہنگامی ریسکیو پلان بنایا گیا تھا۔

یہ کیس چار سے چھ ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔ مقدمہ کے آغازمیں برطانوی پراسیکیوٹر جنرل اڈورڈ برائون نے سائوتھ رک کرائون کی عدالت کو بتایاکہ مالی بحران کے دوران میں برکلیز اور دوسرے بنک سخت مالی دبائو کا شکار رہے ہیں۔

دوسری جانب برکلیز بنک کی طرف سے کہا گیا ہے کہ بحران کے عرصے میں بنک نے برطانوی حکومت سے پیسے لینےسے اس لیے اجتناب برتا کیونکہ بنک کو خدشہ تھا کہ برطانوی حکومت بنک اپنا تسلط قائم کرلے گی اور حکومت کی نگرانی سے بنک کی آزادی سلب ہوجائے گی۔