.

وینزویلا کے صدر مادورو نے یورپی ممالک کا نئے انتخابات کرانے کامطالبہ مسترد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو نے یورپی ممالک کا نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ مسترد کردیا ہے ۔انھوں نے اتوار کو سی این این ترک سے نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کا ملک یورپ سے ’’ بندھا ہوا‘‘ نہیں ہے۔

یورپی ممالک نے وینزویلا کے صدر سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ آیندہ آٹھ روز میں ملک میں نئے عام انتخابات کرانے کا اعلان کریں۔ صدر مادورو نے ان کا یہ مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’انھیں اس الٹی میٹم کو واپس لینا چاہیے۔کوئی بھی ہمیں الٹی میٹم نہیں دے سکتا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ وینزویلا یورپ سے جڑا ہوا نہیں ہے۔ان کا مطالبہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے‘‘۔انھوں نے یورپی ممالک کے اقدام کو ایک ’’ غلطی‘‘ قراردیا ہے۔

فرانس ، نیدرلینڈز اور جرمنی سمیت یورپی طاقتوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر مادورو آٹھ روز میں عام انتخابات کرانے کا اعلان نہیں کرتے تو وہ حزبِ اختلاف کے لیڈر جوآن گائیڈو کو وینزویلا کا صدر تسلیم کرلیں گے۔ برطانیہ اور اسپین نے بھی اسی طرح کا الٹی میٹم جاری کیا ہے۔

وینزویلا کی قومی اسمبلی کے سربراہ گائیڈو نے گذشتہ بدھ کو حزب اختلاف کی ایک بڑی ریلی کے دوران میں خود کو ملک کا قائم مقام صدر قرار دے دیا تھا۔ اس کے بعد امریکا ، کینیڈا اور برازیل اور کولمبیا سمیت جنوبی امریکا کے بعض ممالک نے گائیڈو کو وینزویلا کا خود ساختہ صدر تسلیم کرنے کا ا علان کردیا تھا۔ اس کے ردعمل میں صدر مادورو نے امریکا کے ساتھ اپنے ملک کے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے ہیں ۔

انھوں نے انٹرویو میں کہا ہے کہ گائیڈو آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں ۔انھوں نے امریکا پر اپنی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کا الزام عاید کیا ہے۔انھوں نے ترک ٹیلی ویژن سے انٹرویو میں کہا کہ ’’ جو کچھ رونما ہورہا ہے،اس کا تعلق امریکا سے ہے۔وہ ہم پر حملہ آور ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ وینزویلا ان کا بغلی باغ ہے‘‘۔

انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی حکمرانی کو درپیش چیلنج پر قابو پالیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’وہ مکالمے کے لیے تیار ہیں لیکن ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا کوئی امکان نہیں۔یہ ناممکن نہیں لیکن اس کاامکان نہیں ۔میں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو بہت سے پیغامات بھیجے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کے سب سے بڑے حامی بن کر سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے مادورو سے گذشتہ جمعرات کو فون پر گفتگو کی تھی اور انھیں ترکی کی جانب سے مکمل حمایت کی پیش کش کی تھی۔انھوں نے اس امر کا اظہار حزبِ اختلاف کے لیڈر گائیڈو کے خود کو ملک کا صدر قرار دینے کے ردعمل میں کیا تھا ۔

ترک صدر نے چند روز قبل وینزویلا کے دارالحکومت کیراکس کا دورہ بھی کیا تھا اور اس موقع پر وینزویلا پرامریکا کی عاید کردہ پابندیوں پر تنقید تھی اور کہا تھا کہ ’’سیاسی مسائل ایک پوری قوم کو سزا دے کر حل نہیں کیے جاسکتے ہیں۔ہم ان اقدامات کی حمایت نہیں کرسکتے جن میں عالمی تجارت کے اصولوں کو نظرانداز کیا گیا ہے‘‘۔

ان کا اشارہ امریکی پابندیوں کی جانب تھا ۔امریکا نے گذشتہ ماہ وینزویلا کے حکام اور اس کی سونے کی برآمدات پر بعض پابندیاں عاید کردی تھیں۔اس نے وینزویلا کے حکام پر بدعنوانیوں میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا تھا،مادورو حکومت کے ساتھ مالی لین دین پر پابندی عاید کردی تھی اور اس پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عاید کیا تھا۔

سوشلسٹ رجحانات کے حامل مادورو 2013 سے تیل کی دولت سے مالا مال وینزویلا کے صدر چلے آرہے ہیں۔ وہ امریکا کے خلاف سخت موقف رکھتے ہیں اور ان کے پیش رو صدر ہوگو شاویز بھی امریکا کے سخت مخالف تھے۔ مادورو امریکا کی مسلط کردہ ’’معاشی جنگ‘‘ کو اپنے ملک کے مسائل کا ذمے دار قرار دیتے ہیں لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے پیش رو صدر ہوگو شاویز کی متعارف کردہ سوشلسٹ پالیسیوں کے نتیجے میں ملک معاشی بحران سے دوچار ہوا ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ پالیسیاں ناکام رہی ہیں۔