.

اخوان لیبی انتخابات میں کیونکر رخنہ اندازی کر رہی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ رواں سال لیبیا میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کے انعقاد کے لیے پرامید ہے مگر لیبیا میں عام انتخابات کی راہ میں کئی رکاوٹیں بھی حائل ہیں۔ خاص طور پر سیاسی اسلامی دھارے لیبیا کی موجودہ عدم استحکام کی مدت کو طول دینا چاہتے ہیں۔ سیاسی اسلام کے پرچارک گروپوں میں اخوان المسلمون پیش پیش ہے جو کرنل قذافی کے قتل اور ان کے بعد ملک میں پیدا ہونے والی افراتفری کو مزید طول دینا چاہتی ہے۔

لیبی پارلیمنٹ کے اسپیکر عقیلہ صالح نے گذشتہ روز ایک انٹرویو میں الزام عائد کیا تھا کہ ’’اخوان المسلمون، ترکی، اور قطر انتخابات میں‌ رخنہ اندازی کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ ممالک اور قوتیں لیبیا پر اپنی مرضی مسلط کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔

اخوان المسلمون کی جانب سے لیبیا میں انتخابات سے قبل دستور پر ریفرینڈم کرانے کی کوشش انتخابات کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا موجب بن سکتی ہے۔ لیبی حکومت کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کو انتخابات سے قبل دستور پر عوامی ریفرینڈم کرانے پر مجبور کرنا انتخابی عمل میں مداخلت کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ اخوان المسلمون، عبدالحکیم بالحاج کی الوطن پارٹی اور دیگر اسلامی سیاسی نظام کے علم بردار انتخابات کو ناکام بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ سیاسی اسلام کے حامیوں کو خدشہ ہے کہ اگر آزادانہ اور شفاف انتخابات ہوئے تو اس کے نتیجے میں نہیں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سیاسی اسلام کے علم برداروں کے اس پلان کو ترکی اور قطر کی معاونت حاصل ہے۔

لیبی عہدیدار نے کہا کہ لیبیا میں 90 فی صد ووٹر اسلام پسندوں کو ووٹ نہیں دیں‌گے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام پسند قوتوں کو اپنی شکست نوشتہ دیوار دکھائی دیتی ہے۔ وہ انتخابی شکست سے بچنے کے لیے ملک میں انتخابات کا انعقاد روکنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے وہ ملک میں پرتشدد حربے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ حال ہی میں داراحکومت طرابلس میں 'فجر لیبیا'، مجاھدین درنہ کی مجلس شوریٰ اور ثوار بن غازی مجلس شوریٰ جیسے گروپوں نے افراتفری پھیلانے اور انتخابی ماحول مو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ قوتیں لیبیا میں تشدد کو اس لیے ہوا دے رہیں تاکہ انتخابات کا انعقاد روکا جا سکے۔

اسی سیاق میں رکن پارلیمنٹ علی التکبالی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اخوان المسلمون بدمعاش ملیشیائوں کی حمایت یافتہ جماعت ہے اور اسے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ خود اخوانیوں‌کو بھی پارلیمانی انتخابات میں ایک نشست پر بھی کامیابی کا یقین نہیں۔ اخوان کی کوشش لیبیا کو موجودہ افراتفری کی حالت میں رکھا اور ملک میں سیاسی استحکام کی کوششوں کو ناکام بنا کر اپنے مخصوص مقاصد حاصل کرنا ہے۔