.

سوڈان کے مختلف شہروں میں دھرنوں کی کال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں پروفیشنلز ایسوسی ایشن اور اپوزیشن کے سیاسی گروپوں نے ملک کے مختلف شہروں میں دھرنوں کا سلسلہ پیر کے روز جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔ یہ دھرنے خرطوم کے وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے سے شام چھ بجے تک دیے جائیں گے۔

پروفیشنلز ایسوسی ایشن نے ایک بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ اس دوران قومی نعرے لگائے جائیں اور احتجاج کنندگان کے یکساں مطالبے یعنی حکومت گرانے سے متعلق بینرز لہرائے جائیں۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دھرنوں کے لیے ایسے مقامات کا انتخاب کیا جائے جہاں داخل ہونا اور وہاں سے نکلنا آسان ہو۔

ادھر اُمّہ فیڈرل پارٹی کی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ پارٹی قومی وفاق کی حکومت میں بدستور موجود رہے گی تاہم اس کے سربراہ کی سرگرمی کو منجمد کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل پارٹی نے اتوار کے روز حکومت سے علاحدگی کا اعلان کیا تھا۔ سوڈان کے وزیر ثقافت اور امہ فیڈرل پارٹی کے سیاسی سکریٹری عمر سلیمان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت میں شرکت کا فیصلہ پارٹی کی جنرل کانفرنس میں کیا گیا۔

دوسری جانب سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر اتوار کو مصر کے سرکاری دورے پر دارالحکومت قاہرہ پہنچے۔ انھوں نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی اور ان سے دوطرفہ تعلقات اور باہمی دل چسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر البشیر نے کہا کہ سوڈان میں بہارِ عرب کو جنم دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بعض تنظیموں کا نام لیے بغیر الزام عائد کیا کہ وہ خطے کے ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ سوڈان صدر نے مسئلے کی موجودگی کا اعتراف کیا مگر ساتھ ہی بین الاقوامی اور علاقائی میڈیا پر الزام عائد کیا کہ وہ خوف اور دہشت پھیلا رہے ہیں۔