.

فرانس سے میزائل پروگرام کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہورہی : ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے کہا ہے کہ اس کی فرانس کے ساتھ بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام سے متعلق سرے سے کوئی بات چیت نہیں ہورہی ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے سوموار کو یہ بات دارالحکومت تہران میں اپنی ہفتہ وار نیوز کانفرنس میں فرانسیسی وزیر خارجہ کے ایک بیان کے ردعمل میں کہی ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں وائی ویس لو دریان نے جمعہ کو خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو اس کے خلاف فرانس مزید پابندیا ں عاید کرنے کے لیے تیار ہے اور وہ ( ایرانی) اس کو اچھے طریقے سے سمجھتے ہیں‘‘۔

بہرام قاسمی نے کہا کہ ’’ ہماری میزائل پروگرام سے متعلق فرانس یا کسی اور ملک کے ساتھ کوئی خفیہ یا علانیہ بات چیت نہیں ہورہی ہے‘‘۔

جب ان سے فرانسیسی وزیر خارجہ لو دریان کے مذکورہ بیان پر تبصرے کے لیے کہا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’’ ہمارا میزائل پروگرام دفاعی مقاصد کے لیے ہے اور ا س پر صرف ملک کے اندر ہی بات چیت ہوسکتی ہے۔میں فرانس کے ساتھ اپنے میزائل پروگرام پر کسی خفیہ بات چیت کے انعقاد کی تصدیق نہیں کرسکتاہوں ‘‘۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’’ ہم فرانس کے ساتھ علاقائی اور سیاسی امور پر بات چیت کرتے رہتے ہیں لیکن ایران کی میزائل صلاحیت پر کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی اور یہ بات ہم فرانس کے ساتھ سیاسی مذاکرات میں کئی مرتبہ واضح کرچکے ہیں‘‘۔

بعض مغربی سفارت کاروں کے مطابق فرانس ، برطانیہ اور یورپی یونین کے دوسرے رکن ممالک ایران کے خلاف نئی اقتصادی پابندیاں عاید کرنے پر غور کررہے ہیں۔تین سفارت کاروں نے بتایا ہے کہ ان پابندیوں کے تحت سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کے عہدے داروں اور بیلسٹک میزائل پروگرام سے وابستہ شخصیات کے اثاثے منجمد کیے جا سکتے ہیں اور ان پر سفری پابندیاں عاید کی جاسکتی ہیں۔

امریکا نے گذشتہ سال نومبرمیں ایران کے خلاف دوبارہ اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔ان کے تحت اس کے تیل ، بنک کاری اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو ہدف بنایا گیا تھا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو اس کی ’’ غیر قانونی ‘‘ پالیسیوں سے باز رکھنے کے لیے مزید پابندیاں عاید کرنے کی بھی دھمکی دے رکھی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے ایرا ن کے خلاف یہ پابندیاں جولائی 2015ء میں جوہری سمجھوتا طے ہونے کے بعد ختم کردی تھیں لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ سال مئی میں اس سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور اس کے بعد یہ پابندیاں بحال کردی تھیں۔