.

سعودی عرب کے قومی صنعتی ترقی اور لاجسٹکس پروگرام کا افتتاح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے قومی صنعتی ترقی اور لاجسٹکس پروگرام کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی ہے۔اس کے تحت توانائی ، پیٹرو کیمیکلز ، کان کنی اور آٹو انڈسٹری سمیت سعودی معیشت وصنعت کے بارہ شعبوں کو ترقی دی جائے گی۔

الریاض میں منعقدہ اس فورم کی اختتامی تقریب میں سعودی عرب کی مقامی کمپنیوں اور مختلف بین الاقوامی کمپنیوں کے درمیان مفاہمت کی 37 یادداشتوں پر دست خط کیے گئے ہیں۔ان کا مقصد نئے پروگرام میں وضع کردہ مقاصد و اہداف کا حصول ہے۔

اس فورم میں کل 235 ارب سعودی ریال مالیت کے مختلف سمجھوتے طے پائے ہیں۔ان میں فوجی صنعت میں شراکت داری اور سعودی آرامکو اور سابک کے درمیان تیل کو پیٹرو کیمیکلز میں تبدیل کرنے کا سمجھوتا بھی شامل ہے۔

یہ پروگرام بھی سعودی عرب کے ویژن2030ء کا حصہ ہے جس کا مقصد مملکت کی معیشت کو متنوع بنانا اور تیل کی آمدن پر انحصار کو بتدریج کم سے کم کرنا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفالح نے اختتامی تقریب میں تقریر کرتے ہوئے کہا :’’ ہم یہ وعدہ کرتے ہیں کہ صنعتی ترقی کے پروگرام کو چوتھے صنعتی انقلاب کے لیے ایک ذریعہ بنایا جائے گا‘‘ ۔

انھوں نے کہا کہ اس فورم کے تحت چار شعبوں پرزیادہ توجہ مرکوز کی جارہی ہے اور ہم نے نجی شعبے کو قریباً 80 ارب ریال مالیت کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے 65 مواقع مہیا کرنے کی پیش کش کی ہے۔

فورم کے اختتام پر جن سمجھوتوں کا اعلان کیا گیا ہے کہ ان میں سے دو سعودی ملٹری انڈسٹری پروگرام ( سامی) او ر فرانس کی فرم تھیلز اور بیلجیئم کی سی ایم آئی ڈیفنس کے درمیان طے پائے ہیں۔ انھوں نے اس ضمن میں مفاہمت کی دو یادداشتوں پر دست خط کردیے ہیں۔