.

اقوام متحدہ ایلچی مارٹن گریفتھس کا جنگ بندی سمجھوتے کے بعد الحدیدہ کا پہلا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفتھس نے منگل کے روز ساحلی شہر الحدیدہ کا مختصر دورہ کیا ہے ۔ دسمبر کے اوائل میں یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان سویڈن میں طے شدہ جنگ بندی کے سمجھوتے کے بعد مارٹن گریفتھس کا اس شہر کا پہلا دورہ ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ’’مارٹن گریفتھس ساحلی شہر میں چند گھنٹے کے لیے گئے تھے۔انھوں نے جنگ بندی سمجھوتے پر عمل درآمد کا جائزہ لیا ہے اور نئے مبصر مشن کی تعیناتی کے لیے زمینی حالات کا جائزہ لیا ہے‘‘۔

اس سمجھوتے کے تحت مکمل جنگ بندی کے بعد الحدیدہ سے متحارب فورسز کا انخلا ہونا تھا۔ان دونوں شقوں پر ابھی تک مکمل طور پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسی ماہ اتفاق رائے سے قرارداد نمبر 2452منظور کی تھی۔اس کے تحت الحدیدہ میں جنگ بندی کی نگرانی اور متحارب فورسز کی واپسی کے لیے 75 نگرانوں کی منظوری دی تھی۔

الحدیدہ میں کئی ماہ تک یمنی فوج اور حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی جاری رہی تھی ۔یمنی فوج نے عرب اتحاد کی مدد سے جون 2018ء میں اس شہر پر کنٹرول کے لیے حوثی باغیوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی شروع کی تھی۔

تاہم جنگ بندی سمجھوتے پر 18دسمبر سے عمل درآمد کا آغاز ہونے کے بعد سے الحدیدہ شہر میں صورت حال قدرے بہتر ہوئی ہے ۔البتہ متحارب فریقوں نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات عاید کیے ہیں۔

مارٹن گریفتھس نے سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اس سمجھوتے کے نظام الاوقات میں بھی توسیع کردی گئی ہے۔