.

سابق قطری وزیراعظم حمد بن جاسم نے کس شخص سے کمیشن طلب کیا تھا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کی ایک عدالت کی جانب سے قطر کے سابق وزیراعظم حمد بن جاسم پر برکلیز بنک سے کمیشن مانگنے کا الزام عائد کیا گیا۔

قطری عہدے دار اور مذکورہ بینک کے درمیان تعلق جوڑنے میں ملوث برطانوی بینکار کا نام ذرائع ابلاغ میں گردش میں ہے۔ یہ روجر ایلن جینکنز ہے جس کو اس وقت سازش کرنے اور سابق قطری وزیراعظم کو رشوت ادا کرنے کے سلسلے میں عدالتی کارروائی کا سامنا ہے۔

جینکنز ہی برکلیز بینک اور حمد بن جاسم کے درمیان مالیاتی تعلق کی تمام تر تفصیلات کی نگرانی کر رہا تھا۔ جنکنز پر عائد الزامات کے تحت اسے 22 برس تک کی قید ہو سکتی ہے۔

یہ برطانوی بینکار 1994 سے 2009 تک برکلیز بینک میں نمایاں عہدوں پر منتقل ہوتا رہا یہاں تک کہ حمد بن جاسم کے ساتھ اس کے خفیہ تعلقات کا آغاز ہوا۔ حمد نے عالمی مالیاتی بحران کے دوران بینک میں قطری رقوم ڈال دینے کا وعدہ کیا تا کہ بینک کو مالی بحران سے بچایا جا سکے۔ تاہم حمد نے تقریبا 34.2 کروڑ ڈالر مالیت کا خفیہ کمیشن طلب کیا۔ اس میں 4.2 کروڑ ڈالر کا ذاتی کمیشن شامل تھا جو "مشاورت کی فیس" کے نام پر لیا گیا۔

مالی غبن اور جعل سازی سے متعلق جرائم کے بیورو SFO کے مطابق جینکنز نے بینک کے اندر ہونے والی ایک گفتگو میں کہا تھا کہ "بینک قطری وزیراعظم کو اپنا مشیر مقرر نہیں کر سکتی۔ بہرکیف میں نہیں جانتا کیا کرنا چاہیے ... وہ یقینا اپنی رقم چاہتا ہے"۔

روجر ایلن جینکنز 30 ستمبر 1955 کو پیدا ہوا اور وہ برطانوی شہریت رکھتا ہے۔ اس کا بھائی ڈیوڈ منشیات کی اسمگلنگ قصور وار ٹھہرایا جا چکا ہے۔

جینکنز کو سازش، دھوکہ دہی اور حمد بن جاسم کو غیر قانونی طور پر مالی معاونت فراہم کرنے کے الزامات میں سخت عدالتی کارروائی کا سامنا ہے۔

سال 2008 میں جینکنز نے برکلیز بینک میں 7.3 ارب پاؤنڈ کی مشکوک سرمایہ کاری لانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ یہ سرمایہ کاری قطر کے حکمراں خاندان کی جانب سے کی جانی تھی۔ جینکنز 2011 سے 2013 تک برازیل کے انویسٹمنٹ بینک BTG Pactual کی انتظامی اور سرمایہ کاری کمیٹیوں کا رکن بھی رہا۔

مختلف اندازوں کے مطابق روجر جینکنز کو 2005 میں تقریبا 4 کروڑ کی ادائیگی کی گئی۔ اس طرح وہ لندن میں سب سے زیادہ معاوضہ حاصل کرنے والے بینکار کے طور پر جانا گیا۔ اسی سال برکلیز بینک کے مینجمنٹ بورڈ کے تمام ارکان نے (جینکنز کو ہٹا کر) تنخواہوں اور معاوضوں کی مد میں مجموعی طور پر 1.23 کروڑ پاؤنڈ حاصل کیے۔ یہ رقم غبن میں ملوث بینکار جینکنز کو ملنے والی رقم کے ایک تہائی کے قریب بنتی ہے۔

سال 2007 سے برطانیہ میں ہونے والی بارہا تحقیقات کے بعد روجر جینکنز کو برکلیز بینک کے سابق چیف ایگزیکٹو جون وارلے ارو دیگر عہدے داران کے ساتھ مالیاتی دھوکہ دہی ، سازش اور غیر قانونی طور پر مالی معاونت فراہم کرنے کا ملزم ٹھہرایا گیا۔