وینزویلا کی فوج اقتدار کی پرامن تبدیلی کو قبول کرے: امریکا

کراکس کے خلاف کارروائی کے لیے تمام آپشن کھلے رکھے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا نے وینزویلا کی فوج پر زور دیا ہے کہ وہ وہ ملک میں اقتدار کی پرامن تبدیلی کے عمل کو قبول کرتے ہوئے صدر نکلولس مادورو کی جگہ اپوزیشن لیڈر خوان گوائیڈو کو ملک کا نیا صدر تسلیم کرے۔

العربیہ کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے وائٹ ہائوس میں‌ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم وینزویلا کی مسلح افواج پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنے ملک میں اقتدار کی پرامن تبدیلی کے اقدام کو قبول کرتے ہوئے عبوری صدر خوان گوائیڈو کا ساتھ دے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا کے پاس وینزویلا کے خلاف کارروائی کے لیے تمام آپشن کھلے ہیں۔

خیال رہے کہ وینزویلا میں 23 جنوری کو اپوزیشن لیڈر اور پارلیمنٹ کے اسپیکر خوان گوائیڈو نے خود کو عبوری صدر قرار دیا تھا جس کے بعد امریکا اور بعض دوسرے علاقائی ممالک نے صدر نکولس مادورو کی جگہ گوائیڈو کو ملک کا عبوری صدر تسلیم کرلیا ہے۔ وینزویلا کی مسلح افواج کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ فوج صدر نکولس مادورو کا ساتھ دے گی اور باہر سے مسلط کسی شخص کو وینزویلا کا آئینی صدر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا کہ وینز ویلا میں جمہوری انداز میں اقتدار کی پرامن تبدیلی کے عمل کو ملک کی مسلح افواج کو تسلیم کرنا چاہیے۔ انہوں‌ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینز ویلا کے حوالے سے واضح موقف اختیار کیا ہے۔ کراکس کے خلاف کارروائی کے لیے ہمارے پاس تمام آپشن کھلے ہیں۔

درایں اثناء امریکا نے وینزویلا کی نیشنل پٹرولیم کمپنی پر پابندیاں عاید کردی ہیں۔ عبوری صدر خوان گوائیڈو نے بیرون ملک تمام اثاثوں پر اپنا کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں