.

یورپی ممالک ایران مخالف پابندیوں سے بچاؤ کی کوشش نہ کریں:ٹرمپ انتظامیہ کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ یورپ کی جانب سے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے اور رقوم کی ترسیل کے لیے متبادل نظام کو بروئے کار لانے کی کوششوں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے اور اس نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی ایران کے خلاف عاید کردہ پابندیوں کو سبوتاژ کیا گیا تو وہ ایسے یورپی ممالک کے خلاف جرمانوں کی صورت میں سخت کارروائی کرے گی۔

لیکن یورپی یونین پر امریکا کی اس دھمکی کا کچھ اثر نہیں ہوا ہے اور وہ ایران کے ساتھ مالی لین دین کے لیے ایک متبادل نظام کو اختیار کررہی ہے۔اگر اس پر عمل درآمد کیا جاتا ہے تو پھر امریکا اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔

جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے سوموار کو یہ اطلاع دی ہے کہ یورپی یونین نے ایران کو رقوم کی ترسیل کے لیے متبادل چینل کے قیام کی تیاری کر لی ہے ۔اس سے ایران کے خلاف امریکی پابندیاں عملی طور پر غیر موثر ہو کر رہ جائیں گی۔انھوں نے کہا کہ جرمنی حالیہ مہینوں کے دوران میں برطانیہ ، فرانس اور دوسرے یورپی ممالک کے ساتھ مل کر اس پر کام کرتا رہا ہے۔مسٹر ماس کا کہنا تھا کہ ’’یہ ہمیشہ سے ہمارا مقصد رہا ہے اور ہم اس پر عمل درآمد کریں گے‘‘۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ سال مئی میں ایران کے ساتھ جولائی 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر علاحدگی اختیار کرنے کا اعلان کردیا تھا اور نومبر میں اس کے خلاف دوبارہ اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔یورپی یونین کے رکن ممالک تب سے طے شدہ جوہری سمجھوتے کو بچانے کے لیے کوشاں ہیں۔اس یورپی بلاک نے اس سے پہلے بھی بعض اقدامات متعارف کرائے ہیں جن کی وجہ سے یورپی کمپنیا ں امریکی قدغنوں پر عمل درآمد کی پابند نہیں رہی ہیں۔

اس ضمن میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے کسی ممکنہ اعلان سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیر عہدہ دار نے ایسوسی ایٹڈ پریس ( اے پی) سے جمعہ کو گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف اپنی پابندیوں کا مکمل نفاذ کرے گا اور اس اقدام کو نقصان پہنچانے کے ذمے دار افراد اور اداروں کو قابلِ مواخذہ گردانے گا۔

امریکی سینیٹر ٹام کاٹن نے اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’اب ان کے سامنے ایک ہی انتخاب رہ گیا ہے۔ آیا انھوں نے ایران سےکاروبار کرنا ہے یا امریکا سے۔مجھے امید ہے کہ ہمارے یورپی اتحادی ان میں سے کسی ایک کا دانش مندی سے انتخاب کریں گے‘‘۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے خلاف پابندیوں کی بحالی ایرانیوں پر زیادہ سے زیادہ دباؤ بڑھانے کی مہم کا حصہ ہے تا کہ انھیں بیلسٹک میزائلوں کی تیاری ، علاقائی جنگجو گروپوں کی حمایت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے روکا جاسکے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ایک مشیر کے مطابق امریکا کو ایران کو رقوم کی ترسیل کے لیے یورپی یونین کے متبادل نظام پر گہری تشویش لاحق ہے اور اسے یہ خدشہ ہے کہ رقوم کی ادائی کا یہ نظام بین الاقوامی سطح پر رقوم کے ترسیل کے نظام ’ سوئفٹ ‘کا متبادل بن سکتا ہے اور مالیاتی اداروں کے درمیان بنکوں سے رقوم کی ترسیل اور وصولی کے لیے ایک بڑا نظام بن کر سامنے آسکتا ہے ۔

دوم ، امریکا کو یہ بھی تشویش لاحق ہے کہ دوسرے ممالک امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے اسی یورپی نظام کے تحت ایران کو رقوم منتقل کرسکتے ہیں۔سوم،اس امریکی مشیر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اگرچہ یورپیوں نے یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ رقوم کی ترسیل کے متبادل نظام کو صرف انسانی بنیاد پر لین دین کے لیے استعمال کریں گے لیکن ٹرمپ انتظامیہ کو یہ شُبہ ہے کہ اس کو پابندیوں سے بچنے کی غرض سے غیر انسانی مقاصد کے لیے بھی رقوم کی ترسیل کی جاسکتی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ یورپی یونین کے ا س ممکنہ اقدام کے مضمرات سے نمٹنے کی تیاری کررہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس نے ایران کے خلاف اپنی پابندیوں کے موثر نفاذ کے لیے کوششیں بھی جاری رکھی ہوئی ہیں۔امریکا آیندہ ماہ پولینڈ کے ساتھ مل کر ایک کانفرنس کی میزبانی کرے گا جس میں ایرانی خطرات سے نمٹنے کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔

امریکی محکمہ خزانہ نے گذشتہ جمعرات کو شام میں ایران کی حمایت یافتہ دو ملیشیاؤں اور ایک فضائی کمپنی قشم فارس ائیر پر پابندیاں عاید کردی تھیں۔اس نے ایرانی فضائی کمپنی پر شامی صدر بشارالاسد اور ان کی حکومت کی مدد کی غرض سے ہتھیاروں اور افراد کو شام لے جانے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ ان پابندیوں کے تحت امریکی دائرہ اختیا ر میں ان کے اثاثے منجمد کردیے گئے ہیں اور امریکیوں پر ان کے ساتھ کاروبار کرنے پر پابندی عاید کردی گئی ہے۔

دریں اثناء امریکی محکمہ خارجہ نے اسی ماہ کانگریس سے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف عاید کردہ بعض پابندیوں کو ہٹا دے ،تاکہ امریکی کمپنیاں ایران کی فضائی کمپنیوں کو فالتو پرزہ جات کی فروخت کرسکیں ۔ایرانی کمپنیوں کو عمر رسیدہ امریکی ساختہ بوئنگ جیٹ طیاروں کو محو پرواز رکھنے کے لیے اضافی پرزہ جات کی ضرورت ہے۔