تیونسی صدر کا تحریک النہضہ اور وزیراعظم پرخفیہ ساز باز کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تیونس کے صدر الباجی قاید السبسی نے وزیراعظم یوس الشاھد اور مذہبی سیاسی جماعت تحریک النہضہ پر خفیہ طور پر ایک دوسرے کے ساتھ ساز باز کا الزام عاید کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم یوسف الشاھد کو تحریک النہضہ کی خفیہ حمایت حاصل ہے اور وہ آئندہ ہونے والےصدارتی انتخابات میں‌بھی خفیہ طورپر وزیراعظم الشاھد ہی کی حمایت کرے گی تاکہ اقتدار پران کی گرفت اور بھی مضبوط ہوجائے۔

لندن سے شائع ہونے والے اخبار'العرب' کو دیے گئے انٹرویو میں صدر السبسی نے کہا کہ وزیراعظم یوسف الشاھد اقتدار سے چمٹے رہنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط بنانے کے لیے وہ مذہبی جماعت تحریک النہضہ کی بھی حمایت کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ تحریک النہضہ اور نداء تیونس جماعت کے درمیان اختلافات کی کوئی حقیقت نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں تیونسی صدر کا کہنا تھا کہ تحریک النہضہ چالاکی کے ساتھ اپنے مقاصد حاصل کررہی ہے۔ اس نے رواں سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے بعد ایک نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کی کوششیں شروع کی ہیں۔ اس سے قبل پارلیمنٹ کے44 ارکان نے نداء تیونس اور "حرکت تحیا تونس" کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک نیا اتحاد تشکیل دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک تحیا تیونس اپنی ترقی پسندانہ سوچ اور نداء تیونس کے ساتھ قربت کی وجہ سے سنہ 2014ء کے انتخابات جیت سکتی تھی۔

صدر السبسی نے کہا کہ رواں سال ہونے والے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں تحریک النہضہ کے سربراہ راشد الغنوشی خفیہ طورپر یوسف الشاھد کی حمایت کریں گے تاکہ انہیں ملک کا صدر بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک النہضہ تیونس کے سیاسی منظر نامے پر چھائی ہوئی ہے۔ النہضہ وزیراعظم کے بہت قریب ہے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ تحریک النہضہ کے بغیر وزیراعظم یوسف الشاھد کی حکومت نہیں چل سکتی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا آپ دوبارہ صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنا فرض پورا کردیا ہے۔ ضروری نہیں کہ میں دوبارہ انتخابات میں‌حصہ ہوں۔ ضرورت پڑنے پردوبارہ صدارتی انتخابات میں‌حصہ لے سکتا ہوں مگر تا حیات اقتدار پررہنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں