.

پوپ فرانسیس یو اے ای کے دورے کے موقع پر تاریخ کا نیا باب رقم کرنے کے منتظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رومن کیتھو لک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس نے کہا ہے کہ وہ آیندہ اتوار کو متحدہ عرب امارات کے دورے سے مذاہب کے درمیان تعلقات کی تاریخ کا ایک نیا باب رقم کرنا چاہتے ہیں۔

اماراتی عوام کے لیے جمعرات کو ان کا ایک ویڈیو پیغام جاری کیا گیا ہے۔اس میں انھوں نے کہا:’’ مجھے خوشی ہے کہ میں آپ کی سرزمین پر مذاکرات کے دوران میں تعلقات کا ایک نیا صفحہ رقم کرنا چاہتا ہو ں۔ ہم اگرچہ مختلف ہیں لیکن ہم بھائی بھائی ہیں‘‘۔

اطالوی زبان میں جاری کیے گئے اس پیغام میں پوپ نے ابو ظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان کا دورے کی دعوت دینے پر شکریہ ادا کیا ہے۔وہ انسانی برادری کے موضو ع پر ایک بین المذاہب اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔یہ اجلاس تین سے پانچ فروری تک ابو ظبی میں منعقد ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ اس دورے میں انھیں ’’ دوست اور پیارے بھائی‘‘ شیخ احمد الطیب ( شیخ الازہر) سے ملاقات کا ایک اور موقع میسر آئے گا۔ان دونوں مذہبی رہ نماؤں کے درمیان اس سے پہلے 2017ء میں ملاقات ہوئی تھی۔

پاپائے روم اسلام اور عیسائیت کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور ان کے درمیان تعلقات کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’’ بین المذاہب اجلاس حوصلے اور اس بات پر آمادگی کے عکاس ہیں کہ اللہ پر ایمان لوگوں کو جوڑتا ہے اور یہ تقسیم نہیں کرتا ہے اور اختلافات کے باوجود وہ ایک دوسرے کو قریب لاتا ہے اور معاندانہ طرزِ عمل کو شکست دیتا ہے‘‘۔

پوپ فرانسیس نے مزید کہا کہ ’’ متحدہ عرب امارات کی سرزمین انسانی برادری کے درمیان پُرامن بقائے باہمی ، مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے ملاپ کا ایک نمونہ ہے جہاں بہت سوں کو کام کے لیے ایک محفوظ جگہ مل جاتی ہے اور وہ متنوع ماحول میں آزادانہ رہ سکتے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ میں ان لوگوں سے ملاقات کا منتظر ہوں جو رہ تو حال میں رہے ہیں لیکن ان کی نظریں مستقبل پر ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کی 80 فی صد آبادی مسلم ہے جبکہ عیسائی اس ملک کی کل آبادی کا نو فی صد ہیں۔افریقا ، بنگلہ دیش ، بھارت ، پاکستان اور فلپائن سے تعلق رکھنے کیتھولک مسیحی تارکینِ وطن کی ایک بڑی تعدادیو اے ای میں بہ طور ورکر کام کررہی ہے۔ .