.

ترکی کو امریکا کا قابل اعتبار شراکت دار کیوں نہیں شمار کیا جاتا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی خارجہ تعلقات کی کونسل میں مشرق وسطی اور افریقا کے امور کے ماہر اسٹیون کُک نے امریکی جریدے موزائیک میں شائع ایک مضمون

The Strategy Washington is Pursuing in the Middle East Is the Only Strategy Worth Pursuing

کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ کک نے بین الاقوامی سیاست اور مشرق وسطی کے امور کے امریکی ماہر مائیکل ڈورن کے مذکورہ مضمون کے اندر بہت سے نقاط کو قابل تعجب قرار دیا ہے۔

کک کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈورن ٹرمپ انتظامیہ کے پیکج کے ذریعے مشرق وسطی میں امریکی حکمت عملی کے حوالے سے ایک بڑی حجت پیش کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ البتہ نفیس اسلوب اور شائستہ تعبیرات کے باوجود ڈورن مشرق وسطی کے حوالے سے امریکی صدر کے رجحانات کو کوئی فکری دائرہ کار فراہم کرنے کی کوششوں میں ناکام رہے۔

ڈورن یہ باور کراتے ہیں کہ اگرچہ صدر ٹرمپ مشرق وسطی سے امریکی انخلا کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم وہ اور ان کی انتظامیہ خطے میں واشنگٹن کے حلیفوں کو بے نظیر سپورٹ فراہم کریں گے۔

کک کا کہنا ہے کہ ان حلیفوں کو ڈورن کے مضمون میں بیان کی گئی منطق سے قائل نہیں کیا جا سکتا کیوں ان حلیفوں نے خطے کے حوالے سے ٹرمپ کی روش پر گہرے شکوک کا اظہار کیا ہے۔ ڈورن کا خیال ہے کہ خطے میں امریکی مفادات کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ایران ہے۔ ان کی نظر میں حلیف کی تعریف وہ "ریاست ہے جو امریکی سکیورٹی نظام کو سپورٹ کرے ".

کک کے نزدیک سعودی عرب کے حوالے سے ڈورن کا موقف ایسا ہے جس کا معقول انداز سے دفاع کیا جا سکتا ہے۔ جنوری 2017 میں وہائٹ ہاؤس میں داخل ہونے والا کوئی بھی شخص فوری طور پر اس بات کا ادراک کر لیتا کہ عرب دنیا میں شورش کے 6 برس بعد صرف سعودی ہی ڈٹے کھڑے پائے جا سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں امریکیوں کی علاقائی سطح پر ترکی کے ساتھ بھی شراکت داری ہے جس کو ڈورن مشرق وسطی میں امریکا کی "قابل اتباع واحد حکمت عملی"! کے لیے ایک اور سپورٹ شمار کرتے ہیں۔

کک نے ڈورن کے امریکا ترکی تعلقات کے تجزیے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناقابل توجیہ اور بے ربط قرار دیا۔ کک کے مطابق حقیقت تو یہ ہے کہ ترکی کی حکومت خطے میں ایرانی نفوذ کا مقابلہ کرنے میں شراکت دار بننے کے بجائے تہران کا راستہ آسان بنا دینے میں کام آئی۔ ڈورن یہ بھول گئے کہ ترکی نے (برازیل کے علاوہ) 2010 میں ایران کے ساتھ ایک علاحدہ جوہری ڈیل پر مذاکرات کیے تھے جو کہ 2015 کے مشترکہ اور جامع عملی منصوبے کے مقابلے میں کہیں زیادہ چھوٹ دینے والی تھی۔ ڈورن یہ حقیقت بھی نظر انداز کر رہے ہیں کہ ترکوں نے 2010 میں سلامتی کونسل کے ارکان پر دباؤ ڈالا تھا تا کہ وہ ایران کے خلاف پابندیوں پر ووٹ نہ دیں۔

اس کے علاوہ ان پابندیوں کے عائد کیے جانے کے بعد ترکی کی حکومت کے زیر کنٹرول بینک Halkbank نے پابندیوں کے منفی اثرات سے بچاؤ کے لیے ایران کی مدد میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ اسی وجہ سے بینک کا مینجر محمد حاقان اس منصوبے میں اپنے کردار کے سبب امریکا کی ایک جیل میں پڑا ہوا ہے۔ ترک حکومت ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ ڈال رہی ہے تا کہHalkbank پر بھاری جرمانہ عائد نہ کیا جائے اور نیویارک میں امریکی پراسیکیوٹر کی جانب سے جاری تحقیقات کو روک دیا جائے۔

گزشتہ برس نومبر میں ایرانی تیل کی فروخت پر امریکی پابندیوں کے دوبارہ عائد ہونے کے بعد سے ترکی بارہا یہ مطالبہ کر چکا ہے کہ اسے ایرانی خام تیل کی خریداری جاری رکھنے کے لیے مستقل استثنا دیا جائے۔

کک کے مطابق کسی بھی حقیقی مبصر کو واضح طور پر یہ جان لینا چاہیے کہ ترکی کے مواقف یقینا کسی طور بھی مائیکل ڈورن کے مضمون میں وارد تعریف کے مطابق "امریکی سکیورٹی نظام کو سپورٹ" نہیں کرتے۔ ان مواقف میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کو نشانہ بنا کر داعش کے خلاف لڑائی کو پیچیدہ بنانا، شام میں القاعدہ سے مربوط شدت پسند عناصر کے ساتھ رابطہ کاری، روس سے اعلی ٹکنالوجی کے حامل ہتھیاروں کی خریداری کا ارادہ اور ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی کو سبوتاژ کرنا شامل ہے۔