ترکی : پارلیمان کی دو سابق کردخواتین ارکان کو لمبی مدت کی جیل کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکی میں ایک عدالت نے دو کرد سیاست دان خواتین کو ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم سے تعلق اور دہشت گردوں کے پروپیگنڈے کی تشہیر کے الزام میں قصور وار قرار دے کر لمبی مدت کی قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔

ایک نیوز ویب سائٹ ڈیمرورین کے مطابق سابق رکن پارلیمان غلطان کسناک کو عدالت نے 14 سال اور تین ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ انھیں اکتوبر 2016 ء میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ وہ ترکی کے جنوب مشرقی شہر دیار بکیر کی شریک میئر بھی رہ چکی ہیں۔

ترک پارلیمان کی ایک اور سابق رکن صباحت تنسیل کو عدالت نے 15 سال قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔وہ جیل میں گذشتہ تین ہفتے سے بھوک ہڑتال پر ہے اور وہ جج کے فیصلہ سنانے کے وقت عدالت میں موجود نہیں تھیں ۔

صباحت نے اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ گذشتہ دو سال سے زیادہ عرصے سے جیل کاٹ رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’’ میں وہی کرتی ہوں جس کو میں درست سمجھتی ہوں اور جس کو قانونی ، جائز اور انسانی سمجھتی ہوں ۔میں جو کچھ کرتی ہوں ، وہ جمہوری سیاست کے دائرہ کار ہی میں آتا ہے‘‘۔

کسناک پر کالعدم گروپ کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کی حمایت میں تقریر یں کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔اس کرد مسلح گروپ نے 1984ء سے ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں مسلح بغاوت برپا کررکھی ہے اور اس کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں اور بم حملوں میں 40 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ترکی کے علاوہ یورپی یونین اور امریکا نے پی کے کے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن یہ کہہ چکے ہیں پی کے کے سے تعلق رکھنے والے منتخب نمایندوں اور سرکاری ملازمین کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں