.

ترکی : پارلیمان کی دو سابق کردخواتین ارکان کو لمبی مدت کی جیل کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں ایک عدالت نے دو کرد سیاست دان خواتین کو ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم سے تعلق اور دہشت گردوں کے پروپیگنڈے کی تشہیر کے الزام میں قصور وار قرار دے کر لمبی مدت کی قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔

ایک نیوز ویب سائٹ ڈیمرورین کے مطابق سابق رکن پارلیمان غلطان کسناک کو عدالت نے 14 سال اور تین ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ انھیں اکتوبر 2016 ء میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ وہ ترکی کے جنوب مشرقی شہر دیار بکیر کی شریک میئر بھی رہ چکی ہیں۔

ترک پارلیمان کی ایک اور سابق رکن صباحت تنسیل کو عدالت نے 15 سال قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔وہ جیل میں گذشتہ تین ہفتے سے بھوک ہڑتال پر ہے اور وہ جج کے فیصلہ سنانے کے وقت عدالت میں موجود نہیں تھیں ۔

صباحت نے اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ گذشتہ دو سال سے زیادہ عرصے سے جیل کاٹ رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’’ میں وہی کرتی ہوں جس کو میں درست سمجھتی ہوں اور جس کو قانونی ، جائز اور انسانی سمجھتی ہوں ۔میں جو کچھ کرتی ہوں ، وہ جمہوری سیاست کے دائرہ کار ہی میں آتا ہے‘‘۔

کسناک پر کالعدم گروپ کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کی حمایت میں تقریر یں کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔اس کرد مسلح گروپ نے 1984ء سے ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں مسلح بغاوت برپا کررکھی ہے اور اس کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں اور بم حملوں میں 40 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ترکی کے علاوہ یورپی یونین اور امریکا نے پی کے کے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن یہ کہہ چکے ہیں پی کے کے سے تعلق رکھنے والے منتخب نمایندوں اور سرکاری ملازمین کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا جائے گا۔