مظاہرین کے جائز اقتصادی مطالبات کا احترام کیا جانا چاہیے: سوڈانی وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سوڈان کے وزیراعظم معتز موسیٰ نے گذشتہ ڈیڑھ ایک ماہ سے سراپا احتجاج بنے ہوئے شہریوں کے مطالبات کو جائز قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ درست طور پر بہتر معیارِ زندگی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ (حکومت کو) بعض مسائل درپیش ہیں اور ہم انھیں حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘‘۔وہ سوڈان کو درپیش اقتصادی مسائل اور شہری خدمات کی عدم فراہمی کا حوالہ دے رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ اٹھنے والی آواز کو سنا جانا چاہیے اور اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔احتجاجی مظاہروں میں سیاسی جماعتوں کی موجودگی کے باوجود ان کے بعض مطالبات جائز ہیں اور ان مطالبات کا اظہار کیا جانا چاہیے‘‘۔

واضح رہے کہ سوڈان نے اپنے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے مارکیٹ میں نقدی کی رسد میں اضافہ کر دیا ہے لیکن اس سے افراط ِ زر میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے اور ملکی کرنسی کی قدر میں کمی واقع ہوگئی ہے۔

سوڈان میں 19 دسمبر سے حکومت کی جانب سے روٹی کی قیمت میں تین گنا اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہیں ۔ احتجاجی مظاہرین صدر عمر البشیر سے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن سوڈانی صدر حکومت سے دستبردار ہونے سے انکار کرچکے ہیں ۔انھوں نے الٹا مظاہرین پر غیرملکی طاقتوں کا آلہ کار ہونے کا الزام عاید کیا ہے اور انھیں چیلنج کیا ہے کہ وہ آیندہ صدارتی انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آئیں ۔

سوڈانی حکومت نے ان مظاہروں میں حصہ لینے کے الزام میں 800 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا تھا مگر اب ان میں سے بیشتر کو رہا کیا جاچکا ہے۔ اس دوران میں تشدد کے واقعات میں دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت کم سے کم 30 افراد مارے گئے ہیں لیکن انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے ہلاکتوں کی تعداد 45بتائی ہے۔

سوڈان کی وزارت اطلاعات نے منگل کے روز اطلاع دی تھی کہ انٹیلی جنس اور سکیورٹی کے سربراہ نے احتجاجی مظاہروں کے دوران میں گرفتار کیے گئے تمام افراد کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ اس سے اگلے روز ہی سکیورٹی فورسز نے حزب اختلاف کے لیڈر صادق المہدی کی بیٹی کو گرفتار کر لیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں