1979ءمیں برپا شدہ انقلاب کے بعد ایران کے 40 سال وعدہ خلافیوں سے عبارت ہیں : امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکا نے ایران میں انقلاب کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر کہا ہے کہ اس ملک کی گذشتہ چالیس سال کی تاریخ حکمراں نظام کی وعدہ خلافیوں سے عبارت ہے۔

ایران میں گذشتہ جمعہ سے انقلاب کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کی 1979ء میں وطن واپسی کے چالیس سال پورے ہونے کی سالگرہ تقریبات منائی جارہی ہیں۔اس انقلاب کے نتیجے میں ایران میں صدیوں سے نافذ بادشاہی نظام کا خاتمہ ہوا تھا۔

امریکا کے محکمہ خارجہ نے اپنے سرکاری ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے :’’ آیت اللہ خمینی جب 1979ء میں ایران لوٹے تھے تو انھوں نے ایرانی عوام سے لاتعداد وعدے کیے تھے ۔انھیں انصاف ، آزادی اور خوش حالی دلانے کا وعدہ کیا تھا مگر چالیس سال کے بعد ایران کے حکمراں نظام نے ان تمام وعدوں کو توڑ دیا ہے اور اس کے گذشتہ چالیس سال ناکامی سے عبارت ہیں‘‘۔

ٹویٹ کے مطابق :’’ خمینی نے کہا تھا کہ ماضی کی ناانصافی جاری نہیں رہے گی‘‘ مگر حکومت مخالف پُرامن سیاسی کارکنان کو دبانے کے لیے ان کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ، انھیں قید میں ڈالنے اور کوڑوں کی سزائیں حکام کی انتہا پسندی کو ظاہر کرتی ہیں‘‘۔

اس کے بعد ایک اور ٹویٹ میں محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ’’ خمینی نے اظہار رائے اور پریس کی آزادی کا وعدہ کیا تھا لیکن آج کے ایران میں میڈیا کے لیے سب سے زیادہ جبر واستبداد کا ماحول ہے۔ رجیم نے دسیوں صحافیوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا ہے اور ان کے خاندانوں کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے۔انٹر نیٹ کو بلاک کیا جارہا ہے اور سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندیاں عاید کی جارہی ہیں‘‘۔

محکمہ خارجہ نے تیسری ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’’ خمینی نے ایرانی عوام سے مادی اور روحانی خوش حالی کا وعدہ کیا تھا لیکن چار عشرے کے بعد ایران کے بدعنوان نظام نے ملکی معیشت کو تباہ کردیا ہے۔ایران کے شاندار ورثے کو بے توقیر کیا ہے اور ایران کو ناکامیوں کے چالیس سال دیے ہیں‘‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کررکھا ہے اور وہ ایران کے خطے میں ’’ تخریبی اثر ونفوذ‘‘ کے توڑ کے لیے اقدامات کررہی ہے۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان 1980ء سے سفارتی تعلقات منقطع ہیں۔صدر ٹرمپ نے مئی 2018ء میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جولائی 2015ء میں طویل مذاکرات کے بعد طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور پھر نومبر میں اس کے خلاف دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں جن کے نتیجے میں ایرانی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں