.

ایردوآن کا بشار حکومت کے ساتھ "انٹیلی جنس" رابطوں کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی حکومت نے انٹیلی جنس ادارے کے ذریعے شامی حکومت کے ساتھ کم سطح کے رابطوں کو برقرار رکھا۔ واضح رہے کہ ترکی کا شمار بشار حکومت پر سخت ترین تنقید کرنے والوں میں ہوتا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے جب ترکی نے شام کی حکومت کے ساتھ کم سطح کے براہ راست رابطوں کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے۔

اتوار کے روز ایک ٹی وی انٹرویو میں ایردوآن کا کہنا تھا کہ "انٹیلی جنس ادارے اپنے مفادات کے مطابق رابطے رکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ کا کوئی دشمن ہے تو آپ کو تعلقات برقرار رکھنا ہوں گے ،،، مبادا آپ کو اس کی ضرورت پڑ جائے"۔

ترکی کے صدر نے باور کرایا کہ وہ شمالی شام میں 30 کلو میٹر اندر ایک علاحدہ زون نہیں بلکہ سیف زون کے قیام کے لیے کوشاں ہیں۔

ایردوآن نے زور دے کر کہا کہ ان کا ملک شمالی شام میں سیف زون کے انتظامی امور بین الاقوامی اتحاد کے ہاتھوں میں نہیں چھوڑ سکتا اس لیے کہ سابقہ تجربات کی روشنی میں انقرہ کو اس کا اعتبار نہیں۔

یاد رہے کہ ترکی کے ایک عسکری سکیورٹی وفد نے ماسکو میں روسی حکام کے ساتھ بات چیت کی تھی جس میں شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں مشترکہ اقدامات زیر بحث آئے۔