.

تُرک حکمران جماعت ووٹروں میں 'جنت کے ٹکٹ' بانٹے لگی!

"آق" پارٹی کے متنازع بیان پرعوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تُرک صدر رجب طیب ایردوآن کے ایک وفادار لیڈر اور ان کی جماعت 'آق' کے رکن پارلیمنٹ کے حالیہ متنازع بیان پر عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انصاف وترقی پارٹی [آق] کے رکن پارلیمنٹ عصمت یلماز نے حال ہی میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ ان کی جماعت کے امیدواروں کو ووٹ دینے والے 'جنت میں جائیں گے'۔

عوامی اور سماجی حقلوں میں عصمت یلماز کا یہ بیان سخت تنقید اور تمسخر کی زد میں ہے۔ انہوں‌ نے 31 مارچ کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں عوام سے اپیل کی کہ وہ "آق" پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دیں۔ اس کے صلے میں انہیں جنت ملے گی۔

ایک ووٹر نے عصمت یلماز کا ٹھٹھہ اڑاتے ہوئے لکھا کہ 'میں نے عصمت یلماز کی جماعت کے مخالف امیدوار منصور یافاش کو ووٹ دینا تھا مگر اب میں طیب ایردوآن اور ان کی جماعت انصاف ترقی کو ووٹ دوں گا کیونکہ اس ووٹ کے بدلے میں مجھے جنت میں ملے گی'۔

خیال رہے کہ عصمت یلماز ماضی میں دو بار وزیر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے انصاف وترقی پارٹی کے میئر کے امیدوار حلمی بیلجین کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی اور کہا کہ مجھے امید ہے کہ عوام حلمی بیلجین کو ووٹ دیں گے۔ میں اس بات پر ایمان رکھتا ہوں کہ حلمی بیلجین کو ووٹ دینا حشر کے روز اپنی بریت کی شہادت لینا ہے۔

دوسری جانب ترکی کے سیاسی حلقوں نے عصمت یلماز کے بیان اور ان کی پارٹی کے دیگر رہ نمائوں کے بیانات کی شدید مذمت کی ہے۔ حزب مخالف کے لوگوں کا کہنا ہے کہ 'آق' پارٹی سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے مذہب کا بے بجا استعمال کر کے شہریوں کے مذہبی جذبات کا استحصال کر رہی ہے۔

ترکی کے سرکردہ دانشور محمد عبیداللہ نے اپنے ایک مضمون میں بھی عصمت یلماز اور دیگر رہ نمائوں کے متنازع بیانات کا حوالہ دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’’آق‘‘ پارٹی کے لوگ اتنے پارسا ہو گئے ہیں کہ وہ اب اپنے حامیوں میں جنت بانٹ رہے ہیں اور مخالفین کو جھنم رسید کرنے کے ٹھیکے دار ہیں۔