.

بچوں کی خرید وفروخت میں ملوث تیونس کے دینی مدرسے کی تالا بندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں حکام نے سیدی بوزید صوبے کے شہر الرقاب میں واقع ایک دینی مدرسے کو بند کر دیا ہے۔ اس اقدام کی وجہ مدرسے کے ذمے داران کا کم عمر بچوں کی تجارت میں ملوث ہونا، ان کے حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہونا اور بچوں کے ذہنوں کو شدت پسندی سے آلودہ کرنا ہے۔

تیونس کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ الرقاب کے ایک دینی مدرسے میں بچوں اور نوجوانوں کو نامناسب حالات میں رکھا گیا تھا اور انہیں خراب برتاؤ اور معاشی استحصال کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

وزارت داخلہ کے مطابق سیکورٹی فورسز کو مدرسے کے اندر 42 افراد ملے جن کی عمریں 10 سے 18 برس کے درمیان تھیں۔ ان تمام لوگوں کو ایسے حالات میں رکھا گیا تھا جو کسی طور صحت، صفائی اور سلامتی کی ادنی ترین شرائط کو بھی پورا نہیں کرتے۔ ان تمام بچوں کا تعلیمی سلسلہ منقطع تھا۔

وزارت داخلہ کے مطابق مذکورہ افراد کو تشدد اور بدترین برتاؤ کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ انہیں کاشت کاری اور تعمیرات کے کام میں جبری طور پر استعمال کیے جانے کے علاوہ ان کے ذہنوں میں شدت پسند افکار اور کارروائیوں کا زہر بھی گھولا جا رہا تھا۔

وزارت داخلہ کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ استغاثہ کی جانب سے اجازت کے بعد مدرسے کے مالک کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

اس دینے مدرسے کی بندش کی خبر نے تیونس میں سوشل میڈیا پر بڑا ہنگامہ برپا کر دیا۔ اس دوران سیاسی جماعت النہضہ موومنٹ کے بعض ارکان کی جانب سے مدرسے کے ذمے داران کے مقاصد کی تعریف اور حکام کے بندش کے فیصلے کی مذمت بھی سامنے آئی۔ علاوہ ازیں مدرسے میں زیر تعلیم بچوں کی بعض تصاویر بھی سوشل میڈیا پر گردش میں آئی ہیں۔