.

عرب اتحاد نے حوثی ملیشیا کا ڈرون مار گرایا ، باغیوں کے فوجی کیمپوں پر فضائی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب اتحاد نے یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کا ایک ڈرو ن مار گرایا ہے اور ان کے فوجی کیمپوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔

عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے سوموار کو الریاض میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران میں مار گرائے گئے ڈرون کی تصاویر صحافیو ں کو دکھائی ہیں اور بتایا ہے کہ یہ ایرانی ساختہ ہے۔ اس کے ملبے کی تمام نشانیوں سے بھی یہ بات واضح ہوگئی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے یمن کے دارالحکومت صنعاء کے نواح میں پرزوں سے جوڑ کر ڈرون بنانے کے ماہرین اور ان کی ذخیرہ گاہوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایاہے اور اس دوران میں شہریوں کے جانی نقصان سے بچنے کی حتی الامکان کوشش کی گئی ہے۔

عرب اتحاد کے مطابق حوثیوں نے ساحلی شہر الحدیدہ کے مشرق میں فوجی کیمپ قائم کردیے ہیں اور یہ سویڈن میں دسمبر میں طے شدہ جنگ بندی کے سمجھوتے کی صریح خلاف ورزی ہے۔

عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے 23 جنوری کو المہوت گورنری میں واقع حوثیوں کے فوجی کیمپوں کو بھی فضائی بمباری میں نشانہ بنایا تھا اور اس حملے میں 181 حوثی جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔اس حملے سے قبل انٹیلی جنس کے ذریعے اس بات کو یقین بنایا گیا تھا کہ وہاں کوئی بچّہ فوجی موجود تو نہیں ۔

عرب اتحاد نے اپنے اس الزام کا اعادہ کیا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغی یمن میں سرکاری فوج کے خلاف جنگ کے لیے بچوں کو بھرتی کررہے ہیں۔

اتحاد نے یہ بھی بتایا ہے کہ وہ یمن کی دو بندرگاہوں الصلیف اور راس عیسیٰ میں بحری جہازوں کے داخلے اور لنگر انداز ہونے کے لیے سہولت مہیا کررہا ہے لیکن حوثی باغی جہازوں کی نقل وحرکت میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود اب تک بحری جہازوں کے یمنی بندرگاہوں میں داخلے کے لیے 448 اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں۔