.

پوپ کے دورے سے تمام مذاہب کوانتہاپسندی کے چیلنج سے نمٹنے میں مدد ملے گی:انورقرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے کہا ہے کہ پوپ فرانسیس کا ابو ظبی کا دورہ انتہا پسندی کی رکاوٹوں کو توڑنے کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔یہ دورہ یو اے ای کے پُرامن بقائے باہمی اور رواداری کے فروغ کے لیے پیغام کا بھی عکاس ہے۔

انھوں نے سوموار کے روز العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’یہ بلاشبہ ایک تاریخی دورہ ہے۔جزیرہ نما عرب کا پوپ کا یہ پہلا دورہ ہے ۔اس سے کسی ایک نہیں بلکہ تمام مذاہب کو درپیش انتہا پسندی کے چیلنج پر قابو پانے میں مدد ملے گی‘‘۔

رومن کیتھولک چرچ کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس اتوار کو تین روزہ سرکاری دورے پر ابو ظبی پہنچے تھے۔ان کے اعزاز میں آج صدارتی محل میں ایک پُروقار استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی ہے جہاں ان کا پُرجوش انداز میں خیر مقدم کیا گیا ۔ پوپ یہ دورہ ایسے وقت میں کررہے ہیں جب متحدہ عرب امارات میں رواداری کا سال منایا جارہا ہے۔ یو اے ای نے 2019ء کو رواداری کا سال قرار دیا ہے۔

پوپ کے اس دورے کے موقع پر جامعہ الازہر الشریف قاہرہ کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب بھی خصوصی طور پر ان سے ملاقات کے لیے آئے ہیں۔انور قرقاش نے دونوں مذہبی قائدین کی آمد کو بین المذاہب مکالمے کے فروغ کے لیے ایک اہم واقعہ قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ عالمی سطح پر مسابقت کے لیے ہر ملک کو انتہا پسندی کی رکاوٹوں کو توڑنا ہوگا کیونکہ یہ انتہا پسندی ہمیں کسی بھی طرح متحد کرنے کے بجائے تقسیم کررہی ہے‘‘۔

پوپ فرانسیس اور شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب آج انسانی برادری کے موضوع پر ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کررہے ہیں۔اس کانفرنس میں دنیا بھر سے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے سات سو مندوبین شریک ہیں۔وہ شیخ زاید جامع مسجد میں بھی جائیں گے۔

پاپائے روم مسلم زعماء کونسل سے بھی ملاقات کریں گے۔وہ منگل کو ابو ظبی میں واقع زاید اسپورٹس سٹی میں منعقد ہونے والے مذہبی اجتماع سے خطاب کریں گے۔ اس میں قریباً ایک لاکھ35 ہزار عبادت گزاروں کی شرکت متوقع ہے ۔