.

یورپ نے ایران کو مالی طور سے بچانے کے لیے کیا شرط رکھئ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے یورپ کی جانب سے خصوصی مالیاتی چینل INSTEX کے فعّال بنانے کو تہران کی "FATF" (فنانشل ایکشن ٹاسک فورس آن منی لانڈرنگ) میں شمولیت کے ساتھ مشروط کرنے پر سخت احتجاج کیا ہے۔ واضح رہے کہ INSTEX مالیاتی چینل کا مقصد تہران پر امریکی پابندیوں سے بچ کر ایران کے ساتھ تجارتی لین دین کو ممکن بنانا ہے۔

لندن میں ایرانی سفیر حمید بعیدی نژاد، جو جوہری معاہدے میں ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن بھی رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ یورپ کو کوئی حق نہیں کہ وہ مالیاتی چینل کے حوالے سے عمل درامد کے لیے کوئی شرط عائد کرے۔ اتوار کے روز اپنی ٹویٹ میں بعیدی نژاد نے مزید بتایا کہ تین یورپی ممالک برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے مشترکہ بیان میں ایران کیFATF معاہدے میں شمولیت کو بطور شرط نہیں بلکہ بطور "توقع" ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ ادائیگیوں میں بینکنگ کے نظام کا اس سے متعلق ہونا ہے۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر علی مطہری نے (INSTEX) کو فعال بنانے کے واسطے یورپ کی شرط کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اس میکانزم پر عمل درامد کو ایران کے FATF کے ساتھ منسلک ہونے سے مشروط کرنا ایران کے اندرونی معاملات میں ایک طرح کی مداخلت ہے۔ وزارت خارجہ پر لازم ہے کہ وہ اس بات کا مناسب طور جواب دے۔ ان دونوں امور کو ایک دوسرے کے ساتھ نتھی نہیں کیا جانا چاہیے"۔

ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کی کمیٹی کے رکن علاء الدين بروجردی نے یورپ کی نئی شرط کو "ناقابل قبول" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ (FATF) معاہدے میں ایران کی شمولیت کا معاملہ ملک کی مجلس تشخيص مصلحت نظام کی طرف سے زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یورپ کی جانب سے سیاسی نہیں بلکہ اقتصادی اقدامات کے منتظر ہیں۔

خیال ہے کہINSTEX خصوصی مالیاتی چینل کا مقصد ایران پر امریکی پابندیوں کے باوجود مالی رقوم کی منتقلی کو ممکن بنانا ہے تا کہ یورپی کمپنیوں کے ساتھ ایران کے لین دین کو آسان بنای اجا سکے۔

مئی 2018 میں امریکا نے جوہری معاہدے سے علاحدگی کا اعلان کر دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں تہران پر امریکی پابندیاں دوبارہ عائد ہونے سے قبل ایران میں کام کرنے والی بڑی یورپی کمپنیاں گزشتہ برس موسم گرما کے دوران ایران سے چلی گئی تھیں۔

یورپ کے اس میکانزم کو امریکا کی جانب سے اعتراض کا سامنا ہے۔ واشنگٹن نے اس میکانزم کو ختم کرنے یا اسے محدود کرنے کے لیے یورپ پر دباؤ ڈالا ہے۔ یورپ کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں اس میکانزم کا استعمال ایران کو خوراک، ادویہ اور طبی ساز وسامان فروخت کرنے تک محدود رہے گا تاہم مستقبل میں اس کا دائرہ کار وسیع کیا جا سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے نزدیک نئے میکانزم کے حوالے سے یورپی یونین کے تمام ارکان میں اتفاق رائے نہیں اور یہ صرف جرمنی، فرانس اور برطانیہ تک محدود ہے۔