.

یورپ کے چند بڑے ممالک نے جوآن گائیڈو کو وینزویلا کا عبوری صدر تسلیم کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپ کی چند بڑی اقوام اسپین ، برطانیہ ، آسٹریا ، سویڈن اور ڈنمارک نے وینزویلا کی حزب ِاختلاف کے رہ نما جوآن گائیڈو کو ملک کا عبوری صدر تسلیم کر لیا ہے جبکہ فرانس نے کہا ہے کہ گائیڈو کو ملک میں نئے انتخابات کرانے کا حق حاصل ہے۔

یورپ کے ان ممالک نے وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو گذشتہ اختتام ہفتہ پر ملک میں آیندہ آٹھ روز میں نئے عام انتخابات کے انعقاد کی تاریخ کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔انھوں نے یہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد مادورو کے مدمقابل حزب ِاختلاف کے لیڈر جوآن گائیڈو کو ملک کا عبوری صدر تسلیم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

وینزویلا کے صدر نے یورپی ممالک کے قبل از وقت انتخابات کرانے کے مطالبے کو مسترد کردیا تھا اور انھوں نے یورپ کی حکمراں اشرافیہ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایجنڈے کی اندھی تقلید کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔

گائیڈو وینزویلا کی قومی اسمبلی کے صدر ہیں ۔انھوں نے گذشتہ ماہ از خود ہی ملک کا عارضی صدر ہونے کا اعلان کردیا تھا۔اس پر دنیا کی بڑی طاقتیں دو حصوں میں تقسیم ہوچکی ہیں۔امریکا نے انھیں فوری طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کردیا تھا جبکہ بعض یورپی ممالک نے بھی انھیں تسلیم کر لیا تھا۔

دوسری جانب روس ، چین اور ترکی مادورو کی حمایت کررہے ہیں۔انھوں نے اوپیک کے رکن ملک وینزویلا میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور اسے قرضوں کی شکل میں بھی بھاری رقوم دی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وینزویلا میں کسی سیاسی بحران کی راہ ہموار نہ کی جائے۔

ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے سوموار کو ایک نشری تقریر کہا کہ ’’ میں وینزویلا کی اسمبلی کے صدر جوآن گائیڈو کو ملک کے عبوری صدر کے طور پر تسلیم کرتا ہوں‘‘۔انھوں نے وینزویلا میں جلد سے جلد آزادانہ اور شفاف انتخابات کرانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ’’ نیکولس مادورو نے ہماری مقرر کردہ آٹھ روز کی مدت کے اندر صدارتی انتخابات کرانے کا اعلان نہیں کیا ہے ۔اس لیے برطانیہ اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ اب گائیڈو کو قابل اعتبار انتخابات کے انعقاد کے لیے وینزویلا کے عبوری آئینی صدر کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کرتا ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں وائی ویس لودریان نے فرانس کے انٹر ریڈیو اسٹیشن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’گائیڈو صدارتی انتخابات منعقد کرانے کی صلاحیت اور قانونی جواز رکھتے ہیں‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ فرانس اپنے یورپی شراکت داروں کے ساتھ وینزویلا کے مسئلے پر مشاورت کرے گا اور اہم بات یہ ہے کہ اس تنازعہ کو پُرامن طور پر طور حل کر لیا گیا ہے اور خانہ جنگی سے بچاؤ کیا گیا ہے۔

سویڈن ، آسٹریا اور ڈنمارک کی حکومتوں نے بھی الگ الگ بیانات میں گائیڈو کو وینزویلا کا عبوری صدر تسلیم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

واضح رہے کہ 56 سالہ مادورو 2013ء میں وینزویلا کے سابق لیڈر ہوگو شاویز کی کینسر کے مرض سے موت کے بعد ملک کے صدر بنے تھے۔ وہ سابق یونین لیڈر ہیں۔ان کے گذشتہ پانچ سالہ دور حکومت وینزویلا کی معیشت ابتری کا شکار ہوئی ہے اور کم سے کم تیس لاکھ وینزویلی بہتر روز گار کی تلاش میں ملک چھوڑ کر دوسرے ممالک میں چلے گئے ہیں۔