حوثی ملیشیا زخمی ساتھیوں کے جسمانی اعضاء نکال کر بیچنے لگے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں انسانی تجارت کے انسداد کے لیے سرگرم تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کے زیر قبضہ یمنی دارالحکومت صنعاء میں باغی ملیشیا کی منظم ٹولیاں انسانی اعضاء اور خلیوں کی چوری کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

تنظیم کے مطابق اسے موصول ہونے والی خطرناک اور حیران کن معلومات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ معاملہ "صنعاء کے ہسپتالوں میں منتقل کیے جانے والے حوثی ملیشیا کے زخمی ارکان کے ساتھ پیش آ رہا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ گھناؤنی کارستانیاں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے"۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کے نمائندوں نے الحيمہ، بنی مطر، عمران، اِب، آنس اور حجہ میں اعضاء اور خلیوں کی چوری کا نشانہ بننے والے کئی افراد سے ملاقات بھی کی ہے۔ اس بات کی تصدیق کی جاتی ہے کہ صنعاء میں تین ایسے ہسپتال ہیں جہاں انسانی اعضاء کی چوری عمل میں آ رہی ہے۔ یہ کام یمنی اور غیر ملکی ڈاکٹروں کے زیر نگرانی حوثی ملیشیا کی سرکردہ قیادت کی مکمل سپورٹ کے سائے میں انجام دیا جا رہا ہے۔

یمنی تنظیم کے بیان کے مطابق حاصل شدہ ابتدائی معلومات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس گھناؤنی اور غیر انسانی کارروائی کے متاثرین کی تعداد سیکڑوں میں ہے۔ زیادہ تر زخمیوں کو ٹھکانے لگا دیا جاتا ہے تا کہ ان کے اعضاء حاصل کیے جا سکیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ انسانی تجارت کے انسداد کے لیے سرگرم یمنی تنظیم کے پاس متاثرین کے نام اور انسانی اعضاء اور تجارت میں ملوث نیٹ ورکس کے نام بھی موجود ہیں۔ اس کی بنیاد پر مذکورہ خوف ناک کارروائیوں کی پُرزور مذمت کی جاتی ہے اور ساتھ ہی مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس خطرناک معاملے کی غیر جانب دارانہ بین الاقوامی تحقیقات کرائی جائیں اور زخمیوں کے خلاف اس وحشیانہ جرم کے ارتکاب کا سلسلہ روکا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں