پوپ فرانسیس کی اُمید اور اتحاد کے پیغام کے ساتھ ابوظبی کے تاریخی دورے سے واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

رومن کیتھولک چرچ کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس ابو ظبی کے تین روزہ سرکاری دورے کے بعد واپس روانہ ہوگئے ہیں۔ انھوں نے اس تاریخی دورے کے موقع پر انسانی برادری کو امن ، اُمید اور اتحاد کا پیغام دیا ہے اور کہا ہے کہ انسانی برادری کو جنگ کے ہر نعرے اور ہر لفظ کو مسترد کردینا چاہیے۔

پاپائے روم نے منگل کے روز ابوظبی کے زاید اسپورٹس سٹی میں منعقد ہ تاریخی مذہبی اجتماع میں شرکت کی ہے۔ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے متحدہ عرب امارات کے کونے کونے سے ہزاروں لوگ آئے تھے اور ان کے علاوہ دنیا کے دوسرے ممالک سے بھی مسیحی برادری کے افراد کی ایک بڑی تعداد پہنچی تھی۔

جزیرہ نما عرب میں رومن کیتھو لک مذہب کا اس طرح کا یہ پہلا اجتماع تھا۔اس میں دعائیہ نغمے گائے گئے ہیں اور دنیا کو امن اور امید کا پیغام دیا گیا ہے۔اس میں شریک افراد کا جوش وخروش دیدنی تھا اور وہ نصف شب ہی سے سخت سردی کے باوجود اسٹیڈیم کے باہر جمع ہونا شروع گئے تھے تاکہ وہ اندرکوئی نشستیں حاصل کرسکیں ۔

اجتماع میں شریک ایک 80 سالہ فلپائنی خاتون کرسٹین کا کہنا تھا کہ پوپ کے ساتھ یہاں موجود ہونا میرے لیے بڑی اہمیت حامل ہے اور یہی میرے لیے سب کچھ ہے۔یہ خاتون بیساکھیوں کے سہارے چل کر آئی تھیں۔ دبئی اور دوسرے علاقوں میں مقیم عیسائی برادری کے افراد کے لیے مقامی گرجا گھروں نے بسوں کا انتظام کیا تھا اور انھوں نے رات ایک بجے ہی اپنے سفر کا آغاز کردیا تھا حالانکہ تاریخی اجتماع کا آغاز صبح ساڑھے دس بجے ہونا تھا۔

اجتماع میں شریک ایسٹل نامی ایک شخص کا کہنا تھا کہ ’’ ہم اسپین سے آرہے ہیں۔ ہم رات کو پہنچے تھے اور پھر ہم بس کے ذریعے دو بجے علی الصباح ابو ظبی پہنچ گئے تھے ۔ہم رات بھر سو نہیں سکے اور تھکے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود ہمیں بہت خوشی ہے کہ ہم پوپ کی ایک جھلک دیکھنا چاہتے ہیں اور ان کا بوسہ لینا چاہتے ہیں‘‘۔

سامی نامی ایک اور شخص نے بتایا کہ ’’ ہم رات ایک بجے جاگ گئے تھے اور پھر بس پکڑ کر یہاں آئے ہیں۔پوپ کا یہ دورہ ہم عیسائیوں کے لیے ایک بڑی نعمت کے مترادف ہے۔میرا آبائی تعلق اردن سے ہے لیکن میں یہاں متحدہ عرب امارات ہی میں پیدا ہوا تھا،اس لیے میں اس ملک کا بیٹا ہوں ۔یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ پوپ اس ملک کا دورہ کررہے ہیں‘‘۔

اسٹیڈیم کے اندر ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ عبادت گزار جمع ہوئے تھے اور اس کے باہر بھی ہزاروں افراد مخصوص جگہ پر موجود تھے۔ان کے لیے بڑی بڑی اسکرینوں کا انتظام کیا گیا تھا تاکہ وہ ان کے ذریعے پوپ کی جھلک دیکھ سکیں اور ان کا بیان سن سکیں۔

واضح رہے کہ جزیرہ نما عرب میں بیس لاکھ سے زیادہ کیتھولک تارکین وطن روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ان میں نصف یعنی دس لاکھ کے لگ بھگ یو اے ای میں رہ رہے ہیں۔ان میں کی ایک بڑی تعداد فلپائن اور بھارت سے تعلق رکھتی ہے اور وہ بھی مذہبی اجتماع میں شریک نظر آرہے تھے۔

اس عظیم الشان اجتماع میں شرکت کے بعد پوپ فرانسیس واپس روانہ ہوگئے ہیں۔ ابو ظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے انھیں الوداع کیا اور ہوائی اڈے پر ان کے ہمراہ ان کے طیارے تک رخصت کرنے کے لیے آئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں