.

امریکا اسرائیل سے محدود پیمانے پر'آئرن ڈوم' خریدے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فوج کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اسرائیل سے اس کا تیار کردہ دفاعی نظام 'آئرن ڈوم' محدود پیمانے پر خریدے گی۔ فوج کا کہنا ہے کہ وہ اپنی طویل المدت دفاعی ضروریات کا اندازہ لگانے کی کوشش کررہی ہے۔ فی الحال اسرائیل سے اس کا دفاعی نظام محدود پیمانے پر خرید کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ اسرائیل ک تیار کردہ'آئرن ڈوم' دفاعی نظام فلسطینی مزاحمت کاروں کے ہاں تیار کردہ راکٹوں سے بچائو کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ آئرن ڈوم کاتیوشا اور پانچ سے 70 کلو میٹر کی مسافت پرمار کرنے والے راکٹوں کو ہدف تک پہنچنے سے روکنے اور مارٹر کے گولوں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔

امریکی اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ آئرن ڈوم غزہ کی پٹی کی سرحد پر نصب کیا گیا ہے جو اپنے اہداف کے حصول میں 90 فی صد کامیاب ہے۔

امریکی فوج کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ سرحدوں پر تعینات فوجیوں کے دفاع کے لیے آئرن ڈوم کا استعمال کرے گی تاکہ فوجیوں کو درپیش چیلنجر، براہ راست اور فضائی خطرات سے تحفظ دیا جاسکے۔

ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے امریکا کے ساتھ اس دفاعی ڈیل کو دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط دفاعی تعلقات کا عکاس قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل تیزی کے ساتھ عالمی سطح پر اپنا مقام بنا رہا ہے۔

خیال رہے کہ آئرن ڈوم اسرائیل کی ایڈوانس دفاعی کمپنی 'رفائیل' کا تیار کردہ ایک دفاعی سسٹم ہے جسے خریدنے کے لیے حال ہی میں امریکا کی طرف سے دعویٰ سامنے آیا ہے تاہم اس ڈیل کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔