.

امریکی مسلمان قیدی کی سزائے موت پر عمل درامد کیوں روک دیا گیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں جمعرات کے روز 42 سالہ مسلمان شہری Dominique Ray کو موت کی نیند سلانے کے لیے تمام انتظامات مکمل تھے تاہم آخری وقت میں وہ موت کا انجیکشن لگائے جانے سے بچ گیا۔

ڈومینک رے کو 20 برس قبل موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ ڈومینک پر الزام تھا کہ اس نے 29 جولائی 1995 کو الاباما ریاست کے شہر سیلما میں 15 سالہ لڑکی Tiffany Harville کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا تھا۔ سزائے موت کے فیصلے سے چند ماہ قبل ڈومینک کو سیلما شہر میں ہی 1994 میں 18 سالہ نوجوانErnest Mabins اور اس کے 15 سالہ بھائی Reinhard کے قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔

ڈومینک نے جب قتل کی ان تینوں کارروائیوں کا ارتکاب کیا تو اس وقت وہ مسلمان نہیں تھا۔ اس نے جیل میں رہتے ہوئے اسلام قبول کیا۔ ڈومینک نے اپنا اسلامی نام حکیم رکھا، اس نے داڑھی بڑھا لی اور سر پر عمامہ باندھنے لگا۔

جمعرات کے روز سزائے موت پر عمل درامد کا وقت قریب آنے پر حکیم نے جیل حکام سے درخواست کی کہ موت کے کمرے تک جانے کے لیے ایک مسلمان مذہبی شخصیت کو اس کے ہمراہ کر دیا جائے۔ تاہم حکیم کی درخواست پر عمل میں قانونی پیچیدگیاں رکاوٹ بن گئیں۔

گزشتہ جمعے کے روز فیڈرل جج نے حکیم کی درخواست کو اس بنیاد پر مسترد کر دیا کہ اس سے قبل کبھی الاباما میں موت کے کمرے کے اندر کسی امام کو مجرم کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور ایسا کرنے کے نتیجے میں کشیدگی اور افراتفری جنم لے سکتی ہے۔

البتہ پیر کے روز حکیم مارسیل رے کی دفاعی ٹیم نے اپیل دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ "اگر اس معاملے پر پیش رفت نہ ہوئی تو حکیم کو موت کے وقت روحانی مرشد کی موجودگی کی راحت پہنچائے بغیر اس دنیا سے رخصت ہونا پڑے گا جب کہ الاباما میں اب تک موت کی سزا پانے والے تمام مسیحی افراد کو اس چیز کی اجازت دی گئی"۔

حکیم کی ٹیم نے اس موقف کو امریکی آئین کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی قرار دیا جس کے مطابق ایسے کسی قانون کا جواز نہیں جو "مذہبی رسوم کی انجام دہی کی آزادی" پر روک لگائے۔ لہذا اپیل کورٹ نے حکم دیا کہ کسی بھی حل تک پہنچنے تک حکیم کی موت کی سزا پر عمل درامد نہ کیا جائے۔ تاہم حل انتہائی دشوار ہو گا کیوں کہ حکیم کا اصرار ہے کہ موت کے کمرے میں ایک امام موجود ہو جب کہ قانون صرف ایک سرکاری پادری کی موجودگی کی اجازت دیتا ہے۔